ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش کی ممتاز وعظیم شخصیت پاسبان ملت اسلامیہ جمعیت علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کے صدر حضرت مولانا حافظ پیر شبیر صاحب رحمۃ اللہ کا
آج بتاریخ 19 اکتوبر 2025بروز اتوار بوقت بعد نماز فجر طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا ہے اور وہ اس دار فانی کو چھوڑ کرہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ہیں ۔ انا للہ و وانا الیہ راجعون ۔
حضرت مولانا حافظ پیر شبیر صاحب کےانتقال پر جمعیۃ علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے گہرے رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ: ان کے انتقال سے ملت اسلامیہ کا ایک عظیم خسارہ ہواہے،مولانا مرحوم کا سانحہٴ ارتحال، موت العالم موت العالم کا حقیقی مصداق ہے، اس سے جو زبردست خلا پیدا ہوگیا ہے اس کا پرہونا بیحد مشکل ہے۔ ان کا سانحہ ارتحال اس دور میں عوام و خواص سب کے لئے بڑا خسارہ ہے۔
مولانا ندیم صدیقی صاحب نے مزید کہا کہ حضرت مولانا حافظ پیر شبیر صاحب کی
ازندگی کا ایک ایک لمحہ دین و ملت کی خدمت کے لیے وقف تھا۔ وہ نصف صدی سے زائد عرصہ جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے ملت کی رہنمائی، نصرتِ دین، اور خدمتِ خلق میں مصروف رہے۔ ان کی قیادت میں جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش نے تعلیمی، رفاہی اور سماجی میدانوں میں جو کام انجام دیے، وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
وہ قطب دکن حضرت مولانا شاہ عبد الغفور قریشی رحمۃ اللہ کے شا گرد تھے ۔انہوں نے دارالعلوم ناندیڑ میں ان سے تعلیم حاصل کی تھی ۔
حضرت مرحوم کو ریاستی سطح پر بھی نمایاں اعزاز حاصل رہا۔ وہ تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی کے باوقار چیرمین رہے، جہاں انہوں نے حجاج کرام کی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دیا۔ اسی طرح بطور ایم ایل سی آپ نے ایوان میں ملت کے مسائل کی پرزور وکالت کی اور مسلمانوں کے تعلیمی و سماجی مسائل پر ہمیشہ آواز بلند کی۔ تعلیمی اور معاشی اعتبار سے پسماندہ مسلمانوں کے لیے مسلم ریزرویشن کے حصول کے سلسلے میں ان کی جد وجہد اور قر بانیوں کو یاد رکھا جائے گا ۔۔
حافظ پیر شبیر احمد صاحب میں غیر معمولی بردباری، بصیرت اور استقامت تھی۔ مشکل حالات میں بھی ان کی قیادت امت کے لیے مشعلِ راہ رہی۔ وہ ہمیشہ مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر ملت کے اجتماعی مفاد کی بات کرتے، اور امت کے اتحاد و خیرخواہی کے لیے کوشاں رہتے۔
ان کی وفات سے جمعیۃ علماء اور پوری ملت ایک عظیم قائد سے محروم ہوگئی۔ ایسے بے لوث رہنما بہت کم پیدا ہوتے ہیں جو اپنی سادگی، علم، عمل، اور اخلاص سے قلوب کو مسخر کر لیتے ہیں۔ ان کی یادیں، ان کی خدمات اور ان کا کردار تاریخِ ملت میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
حافظ پیر شبیر صاحب سے میرے ذاتی اور گھریلو مراسم تھے ، وہ مجھ سے قلبی محبت و شفقت کا اظہار فرماتے دعائوں سے نوازتے، وہ ہر ایک سے عاجزی، اخلاص، اور محبت سے پیش آتے تھے ۔ ان کا ہر عمل یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے جیتے تھے۔ ان کی ذات دین کا عملی نمونہ تھی۔،اللہ تبارک وتعالی ان کی جملہ خدمات کو قبول فرمائے ۔ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم حافظ پیر شبیر صاحب کےجملہ صاحبزاد گان بطور خاص حافط خلیق احمد صابر ودیگر پسماندگان و لواحقین سے تعزیت مسنونہ اور دعاءمغفرت پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالی حافظ صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے ، صوبے بھر کے تمام جمعیتی احباب ،اراکین ،ائمہ مساجد ، اورذمہ داران مدارس اور عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ حا فظ صاحب کےلئے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کا اہتمام کریں۔
نماز جنازہ بعد نماز عصر کنز العلوم مرکز سب ہین نگر حیدرآباد میں ادا کی جائے گی ۔اور ان کے آبائی قبرستان رسا یہ خرشید جاہی حیدرآباد میں تد فین عمل میں آئے گی ۔۔