جلگاو¿ں (نامہ نگار ) جلگاوں کے کانڑدا راستے پر ایک 29سالہ مسلم نوجوان کے قتل سے شہر بھر میں سنسنی پھیل گئی۔جب یہ خبر شہر سمیت آس پاس کے علاقوں میں پہنچی تو تھوڑی ہی دیر میں عوام کا جع غفیر سرکاری میڈیکل کالج و اسپتال میں دیکھنے کو ملا۔امجد خان خلیل خان پٹھان مقتول نوجوان کا نام ہے۔جو پڑوس کے قصبے نصیر آباد کے باراداری محلہ کا رہائشی تھا اور پیشے سے مال بردار گاڑی پر ڈرائیورنگ کرتا تھا۔جس وقت نوجوان کی لاش سول اسپتال میں موجود تھی شہر بھر میں طرح طرح کی افواہیں گردش کررہی ہے تھی اور ماحول کشیدہ ہونے لگا تھا لیکن جلگاو¿ں پولیس کے اعلی آفیسران اور مسلم سماج کے نمائندوں نے حالات کو بگڑنے سے بچا لیا۔ اس معاملے میں جلگاو¿ں تعلقہ پولیس اسٹیشن نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔جسے تین دن دنوں پولیس تحویل روانہ کیا گیا ہے۔موصولہ مزید تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ دوپہر ایک بجے کے قریب پیش آیا تھا۔قتل کی وجہ ایک شادی شدہ خاتون سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے بعد ہوئی مارپیٹ بتائی گئی ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق مقتول امجد خان نے اپنے دوست افسر علی منصف علی کو فون کر جلگاو¿ں آنے کو کہا اور ضرورت کیلئے چار سو روپئے طلب کئے۔بعد میں دونوں موٹر سائیکل نمبر ایم ایچ 19 یو 7113 سے کانڑدا میں کسی سے پیسے لینے گئے تھے واپسی میں مقتول امجد خان نے افسر علی سے پھو نگر کے طرف گئے جہاں انہیں رادھیکا نامی ایک خاتون سے ملنا تھا۔اطلاع کے مطابق رادھیکا نامی خاتون کے گھر سے تھوڑی دور پر امجد خان اتر اس سے ملنے گیا اس کے بعد خاتون کے بھائی رام چندر کالو مرساڑھے (24،پھو نگر) اور امجد خان کا جھگڑا ہوا گیا جس امجد خان سینے اور بدن پر زیادہ مار لگنے سے وہ جگہوں پر ہی بے ہوش ہوگیا اس کے بعد افسر علی اور مرساڑھے گھبرا گئے اور زخمی حالت میں خان کو کانڑدا کے ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔جانچ کے بعد ڈاکٹر نے امجد کو مردہ قرار دیا۔اس دوران مرساڑھے نے افسر علی اور امجد کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کی۔معاملہ جب نصیر آباد پہنچ تو سنسنی پھیل گئی اور پولیس نے لاش کو سول اسپتال لایا جہاں پر قانونی نقاط کی تکمیل کی گئی۔ابتدائ میں پولیس نے افسر علی سے پوچھ تاچھ کی تو معاملہ سامنے آیا۔بعد از تعلقہ پولیس نے رام چندر مرساڑھے کو حراست میں لیا۔تعلقہ پولیس اسٹیشن سے ملی تفصیلات کے مطابق اس معاملے میں افسر علی شکایت پر مرساڑھے کے خلاف دفعہ 302 ،323 ،504 ،506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اس ضمن میں مزید گفتگو جلگاو¿ں تعلقہ پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر دلیپ بھاگوت نے کرتے ہوئے بتایا کہ 17 جنوری تک پولیس تحویل ملی ہے۔پولیس پوچھ تاچھ کررہی ہے۔” تاہم غمگین ماحول میں امجد خان کی تدفین عمل میں آئی۔یاد رہے کہ مقتول شادی شدہ تھا۔اور وہ اپنے ماما کلیم خان کے مال بردار گاڑی پر ڈرائیورنگ کرتا تھا۔