جعلی یونیورسٹی ریکیٹ کا انکشاف غریب طلباء کے مستقبل سے کھیلنے نہیں دیں گے – مرضیہ شانُو پٹھان
سینکڑوں طلباء کو ایک نجی ادارے نے دھوکہ دیا، نیشنلسٹ اسٹوڈنٹس کانگریس کے کارکنان برہم
تھانے (آفتاب شیخ)
تھانے شہر میں چلائے جانے والے ایک جعلی فزیوتھراپی تعلیمی ریکیٹ کو نیشنلسٹ اسٹوڈنٹس کانگریس – شردچندرا پاوار پارٹی کی قومی کارگزار صدر مرضیہ شانُو پٹھان نے بے نقاب کر دیا۔ اس ادارے نے مہاراشٹرا کی یونیورسٹیوں سے ڈگری سرٹیفکیٹ دینے کا جھوٹا دعویٰ کیا اور تھانے میں واقع سی ای ڈی پی اسکلڈ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے جھارکھنڈ، آسام، سکم کے دو کمروں پر مشتمل نام نہاد یونیورسٹیوں کے سرٹیفکیٹ فراہم کیے جا رہے تھے۔ مرضیہ پٹھان نے اس ادارے پر فوری کارروائی اور متاثرہ طلباء کو تعلیمی نقصان کا ازالہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
نیشنلسٹ اسٹوڈنٹس کانگریس کی مرضیہ پٹھان کے پاس ممبئی، تھانے اور کلیان کے علاقوں کے طلباء نے فریب دہی کی شکایات کی تھیں۔ جب انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کی تو پتا چلا کہ جن یونیورسٹیوں کے سرٹیفکیٹ دیے جا رہے تھے، انہیں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) سے منظوری ہی نہیں تھی۔ اس انکشاف کے بعد مرضیہ پٹھان نے تھانے کے رام ماروتی روڈ پر موجود سی ای ڈی پی اسکلڈ انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا اور ادارے کے حکام سے سخت باز پرس کی۔
اس بارے میں مرضیہ پٹھان نے کہا کہ سی ای ڈی پی اسکلڈ انسٹی ٹیوٹ محض دھوکہ دہی کر رہا ہے۔ دسویں اور بارہویں جماعت میں ناکام ہونے والے طلباء کو یہاں جعلی دستاویزات تیار کرکے داخلے دیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ جن طلباء کو دوسرے اداروں میں داخلہ نہیں ملا انہیں یہ ادارہ یقین دلاتا ہے کہ مہاراشٹر کی یونیورسٹی سے ڈگری دی جائے گی، جبکہ ان کے داخلے جھارکھنڈ، آسام اور سکم وغیرہ میں درج کیے جاتے ہیں۔ ایجوکیشن لون کے لیے بھی جعلی دستخط کرکے قرضہ نکالا جاتا ہے۔ ادارے کا ایک نام نہاد یونیورسٹی "کیپیٹل یونیورسٹی" کے ساتھ ٹائی اپ ہے جس کے ذریعے سرٹیفکیٹ دیے جا رہے ہیں۔ مرضیہ پٹھان نے اس بڑے تعلیمی گھوٹالے کے حوالے سے پولیس حکام سے رابطے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر کارروائی نہ ہوئی تو وہ احتجاج کریں گی۔
سی ای ڈی پی اسکلڈ انسٹی ٹیوٹ نے طلباء کو دلچسپ لالچ دے کر دھوکہ دیا۔ ایک داخلے پر سات ہزار روپے اور دو یا اس سے زائد داخلے کرانے پر فون یا لیپ ٹاپ دینے کی آفر دی گئی ہے۔