جب گلستان کو خوں کی ضرورت پڑی

از: سید ایاز ناندیڑ
آج ہمارا ملک اپنی آزادی کا 78 واں جشن منا رہا ہے۔ ہر طرف اس آزادی کی شادمانی میں شہنائیاں بج رہی ہیں، چاروں طرف خوشیوں اور مسرتوں کا سماں نظر آرہا ہے، ہر فرد شاداں و فرحاں معلوم ہو رہا ہے۔ لہذا ہمیں بھی چاہئے کہ اس حسین موقع پر ہم ان محسنین و مجاہدین کی قربانیوں، ان کے کارناموں کو یاد کریں، اور ان کو بیاں کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کریں، جنہوں نے اس وطنِ عزیز کے لیے جد و جہد کی، اس کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اور اس ملک کو تقلیدِ غلامی سے نکال کر اس کے لیے آزادی و حریت کی فضاء ہموار کی، تو جب ہم اس کے لیے ماضی کا پردہ اٹھا کر قرنِ گذشتہ کی طرف نظر کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ابتداءِ بغاوت سے انتہاءِ آزادی تک اور آئین سازی سے نفاذِ آئین تک ہر عمل میں اکثر و بیشتر مسلم قائدین و عوام پیش پیش رہے ہیں ۔

چاہے وہ 1754ء میں اولین علَمِ بغاوت بلند کرنے والے "علی وردی” ہو یا ان کے بعد ان کی کمان سنبھالنے اور انگریزوں کا مقابلہ کرنے والے ان کے نواسے "نواب سراج الدولہ” ہو ۔ چاہے 1782ء میں یا اس سے قبل ہی انگریزوں سے بِھڑنے والے "حیدر علی” اور 1783ء میں انگریزوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے شیرِ میسور ٹیپو سلطان ہو۔ چاہے 1803ء میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دینے والے عبد العزیز محدث دہلوی ہو یا ان کی آواز پر لبیک کہنے والے سید احمد شہیدؒ اور اسماعیل شہیدؒ ہو، جنہوں نے1831ء یا 1832ء میں بالا کوٹ کی سرزمین پر جامِ شہادت نوش کیا، یہ تو صرف ایک جھلک ہے، ورنہ تو گئیں صدہا صد مسلم پروانئے جہاد مشتملِ جہاد میں کود کر جاں بحق ہوئے۔
مزید ہم اگر تحریکات کی طرف نظر مبذول کریں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں نے کئی تحریکیں بھی چلائیں جن میں سر فہرست "ریشمی رومال تحریک” ہے، جو اگر کامیاب ہوجاتی تو ملک اُسی وقت آزاد ہو جاتا، لیکن اپنوں ہی کی بے وفائی نے اسے بروئے انجام آنے نہ دیا۔

اس کے علاوہ تحریکِ خلافت، ہندو، مسلم اتحاد ، ترکِ موالات، موپلا بغاوت، چوری چورا تحریک، تحریکِ سول نافرمانی، نمک آندولن،
ہندوستان چھوڑو تحریک، وغیرہ تحریکات جن میں مسلم قائدین و عوام شامل ہی نہیں بلکہ پیش پیش رہے تھے۔

اٹھائے کچھ ورق لالہ نے، کچھ نرگس نے، تو کچھ گُل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری

لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں کی ان تمام قربانیوں کو فراموش کر، انہیں پس پشت ڈال دیا جا رہا ہے۔ مزید براں انہیں سے حبُ الوطنی کا ثبوت مانگا جارہا ہے۔ انہیں سیاسی و سماجی حقوق سے بے دخل کیا جا رہا ہے، انہیں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، ان کی عبادت گاہوں، مذہبی پیشواؤں پر حملہ کیا جارہا ہے، مساجد و مدارس کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ کبھی مذہبی تعصب کی بنا پر راہ چلتے مسلمان کو پیٹا جا رہا ہے، تو کبھی آپسی انتشار کی بنا پر لو جہاد کا الزام لگایا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ انہیں اس وطنِ عزیز کو الوداع کہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

جب گلستان کو خون کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے گردن ہماری کٹی
اب یہ کہتے ہیں اہلِ چمن
یہ چمن ہمارا ہے تمہارا نہیں

جب کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہمیں بھی برابری بلکہ ان سے زیادہ حقوق ملتے، مذہبی امور میں مداخلت نہ ہوتی، اور مساوات کے ساتھ سماجی سہولتیں حاصل ہوتیں، تساویانہ طور پر رزرویشن دیا جاتا، برابری کے ساتھ آرکشن دیا جاتا۔ آپس میں میل جول ہوتا، امن و امان قائم ہوتا، لیکن آج بالکل اس کے برخلاف نظر آتا ہے۔ بقول شاعر

ظلم و ستم کی زد میں نام و نشاں ہمارا
برباد ہو چکا ہے امن و اماں ہمارا
کس منہ سے اب پڑھیں ہم اقبال کا ترانہ
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

سونچیے کہ اگر ہمارے اکابر اور ان شہداء کو اپنی قربانیوں کے بعد اس ثمرہ اور حالات کا علم ہوتا تو کیا وہ اتنی قربانیاں دیتے؟ کیا وہ توپوں سے لڑتے؟ کیا وہ لوگ گولیوں کا نشانہ بنتے؟ کیا وہ لوگ تنور میں جلنے اور تختہ دار پر چڑھنے کو گوارہ کرتے؟ نہیں، کیوں کہ انہوں نے یہ سب قربانیاں آزادی کے لیے دیں، نہ کہ غلامی در غلامی کے لیے، چنانچہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان انتشار آلود فضاؤں کو ختم کر، محبت و الفت والی بادِ صبا کو عام کیا جائے، اور پھر سے اخوت و بھائیچارگی کا درس دیں، تا کہ دوبارہ ہمارا ملک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ بن سکے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading