اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی مکمل طور پر اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول میں ہو گی اور حماس کو شکست دی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ جب تک غزہ کے تمام علاقے مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں نہیں آ جاتے، جنگ جاری رہے گی۔اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے غزہ میں امدادی سرگرمیوں کے لیے تین نکاتی منصوبہ پیش کیا۔
ان کے مطابق اس منصوبے کے تحت غزہ کو بنیادی امدادی اشیا فراہم کی جائیں گی، امریکی کمپنیوں کے ذریعے خوراک کی تقسیم کے مراکز قائم کیے جائیں گے جنھیں اسرائیلی فوج کی سکیورٹی حاصل ہو گی اور غزہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک مخصوص زون قائم کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکومت پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے یہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے اور انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنائے۔
ایک گھنٹہ قبلنیتن یاہو کے خطاب کے پانچ اہم نکات
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے آج یروشلم میں خطاب کیا۔ ان کے خطاب کے چند اہم نکات پر نظر ڈالتے ہیں:
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ’ممکنہ طور پر‘ محمد سنوار کو ہلاک کر دیا ہے، جو غزہ میں حماس کے سابق رہنما یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی ہیں۔وزیرِاعظم نے کہا کہ اسرائیل ایک عارضی جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے تیار ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ اُس وقت ختم کرے گا جب کچھ ’واضح شرائط‘ پوری ہوں جو ملک کی سکیورٹی کو یقینی بنائیں۔
نیتن یاہو کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے جبکہ 30 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔انھوں نے دعویٰ کی کہ جنگ کے اختتام پر پورا غزہ اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول میں ہو گا۔
نیتن یاہو نے غزہ کے لیے ایک تین نکاتی امدادی منصوبہ پیش کیا جس میں امریکی کمپنیوں کی مدد سے خوراک کی تقسیم کے مراکز قائم کرنا اور سکیورٹی کنٹرول سنبھالنے کے بعد شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک مخصوص زون تشکیل دینا شامل ہیں۔