جان ہے تو جہان ہے

ہندوستان میں وبائی مرض "کوروناوائرس "تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہا ہے جہاں اس وائرس سے مرنے والوں اور متأثرین کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے وہیں دوسری طرف ملک کی معیشت کی حالت انتہائی خراب ہوتی جارہی ہے اس وبائی مرض سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کے وزیراعظم جناب نریندر مودی نے تین مئ تک لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کا اعلان کردیا ہے جس کی وجہ سے پریشانی لازمی ہے،کتنے غریب عوام ایسے ہیں جن کے چولہے ٹھنڈے پڑچکے ہیں اورکتنے ہی بےیارو مددگار ہیں

جن کی خبر گیری تک نہیں لیکن انفرادی پریشانی و مصیبت سے اجتماعی راحت و آرام بڑی چیز ہے کیونکہ اس سے ملک معاشرہ اورسماج پوری طرح محفوظ ومامون رہے گا اس لئے حکومت کے اس فیصلے کا احترام کریں ،بلاشدید ضرورت گھروں سے نہ نکلیں اور ہرفرد اپنے اہل خانہ،اعزہ واقارب کا بھرپور خیال رکھیں ذراسی بھی غفلت نہ برتیں اور پریشان حال لوگوں کی صدقات و عطیات سے ہی سہی مدد کریں،اورلاک ڈاؤن کی وجہ سے عبادت اپنے گھروں میں کریں، توبہ واستغفار کریں اور اپنی جان کی حفاظت کی فکرکریں مشہور مقولہ ہے. "جان ہے تو جہان ہے "اس لئے جان بوجھ کر اپنے نفس کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، دنیاکا کوئی قانون اور ضابطہ اس کی اجازت نہیں دیتا ہے.

خالق کائنات رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا "اےایمان والو اپنی جان اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ "(سورہ تحریم .6) اسی طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "اذا سمعتم بالطاعون بأرض فلا تدخلوھا واذا وقع بأرض وأنتم بھا فلا تخرجوا منھا "(صحیح البخاری مع فتح الباری. کتاب الطب. باب مایذ کرفی الطاعون. رقم الحدیث 5396)جب طاعون کسی جگہ میں ہوتو اس جگہ نہ جاؤ اور نہ اس جگہ سے نکلو ”
لہذا آفت وبلا اور مصیبت سے بچاؤ کی خوب تدبیراختیار کریں. آفت وبلااور مصیبت سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا دین کا ایک حصہ ہے.
اللہ تعالی ہم سبہوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے. آمین یارب العالمین.

ازـــــ محمدضیاءالحق ندوی

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading