نئی دہلی :مرکزی وزیر داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر امت شاہ نے نازبرداری کی سیاست کے لئے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے اتوارکو کہا کہ اس کی وجہ سے ووٹ بینک کی سیاست کو طاقت ملی اور قوم کا بہت نقصان ہوا ہے۔ امت شاہ نے تین طلاق کے معاملہ پر یہاں منعقدہ ایک لیکچر میں کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے طلاق بدعت (تین طلاق) کو روکنے کے خلاف قانون بنانے میں مسلسل رکاوٹیں ڈالیں۔ اس کی اہم وجہ ناز برداری کی سیاست تھی۔ نازبرداری کی سیاست آہستہ آہستہ ووٹ بینک تیار کرنے کا اوزار بن گئی۔ تین طلاق تو بس ایک مثال ہے۔ ووٹ بینک کی پالیسیوں نے ملک کو کئی طرح سے نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ بینک کی سیاست نے دہائیوں سے قوم کو نقصان پہنچایا ہے اور جامع ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ شاہ بانو معاملہ 80کی دہائی میں سامنے آیا تھا لیکن اس وقت کی راجیو گاندھی حکومت نے تین طلاق کے خلاف قدم اٹھانے کے لئے عزم اور سیاسی قوت ارادی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے جس نے قانون بنایا ہے۔
شاہ نے سماجی برائیوں اور غلط روایات کے تعلق سے ججوں کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں تین طلاق گناہ ہے تو اسے کیوں (شریعت) قانونی مانا جائے؟ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک سمیت دنیا کے کم از کم 19ممالک نے تین طلاق پر 60کی دہائی میں ہی پابندی عائد کردی تھی لیکن نازبرداری کی سیاست کی وجہ سے ہی ہندستان میں اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غریبی اور پسماندگی کا کوئی مذہب رنگ نہیں ہوتا اور ان سے لڑنے کے لئے نازبرداری کی سیاست کی ضرورت نہیں ہے۔