کلکتہ/یکم ستمبر (یواین آئی)مشرقی مدنی پور کے کولا گھاٹ میں ترنمول کانگریس کے ایک لیڈر نے پارٹی کے دفتر 6.5لاکھ روپے میں ہی فروخت کردیا۔پارٹی آفس کو فروخت کرنے والے ترنمول کانگریس کے لیڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی آفس ان کی زمین پر تھا اور وہ زمین کے مالک تھے۔دریں اثناترنمول کانگریس کے پارٹی ورکروں اور لیڈروں نے پارٹی اعلیٰ قیادت سے اپیل کی ہے پارٹی کے دفتر کو واپس لیں۔

کولا گھاٹ بلاک میں ترنمول ذرائع کے مطابق ترنمول پارٹی کا دفتر گوپال نگر گرام پنچایت کے علاقے میں گنگامارو بارش چوراہے پر 2016سے ہی قائم ہے۔ایک ہزار مربع فٹ زمین پر تعمیر ایک منزلہ مکان میں ترنمول کانگریس کے تنظیمی امور انجام دی جارہی تھی۔کولا گھاٹ پنچایت سمیتی کے سابق صدر اور گوپال نگرعلاقے کے مقامی ترنمول صدر مناب سمانترا نے حال ہی میں پارٹی دفتر کو شیخ راجہ نامی نوجوان کے ہاتھوں ساڑھے 6 لاکھ میں فروخت کردیا۔ لیکن اس کی جانکاری کسی کو بھی نہیں تھی۔جب پارٹی آفس کے فروخت ہونے کی اطلاع ملی تاپارٹی کارکنان پریشان ہوگئے۔
پارٹی دفتر فروخت کرنے والے سمانترا نے کہا کہ یہ پارٹی دفتر اپنے پیسوں سے تعمیر کیا تھا۔اس کیلئے ایک روپیہ بھی پارٹی سے نہیں لی تھی۔2019کے لوک سبھا انتخاب کے دوران ہم نے اس مکان کو پارٹی کے استعمال کیلئے دیا تھا۔میں نے صرف مکان استعمال کرنے کیلئے دیا تھا۔اب میرے خلاف غیر ضروری پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔
تاہم دوسری طرف یہ کہا جارہا ہے کہ پارٹی دفتر محکمہ آب پاشی کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے۔اس سوال پر سرکاری زمین پر کس طریقے مکان کی تعمیر کی گئی۔سمانترا نے کہا کہ بہت سی خالی زمین پر مکانات کی تعمیر کرلی جاتی ہے۔ترنمول یوتھ بلاک کے صدر اور کولا گھاٹ پنچایت سمیتی کے اسسٹنٹ صدر راج کمار کنڈو نے کہا کہ کوئی بھی پارٹی دفتر فروخت نہیں کرسکتا ہے۔ ضلع قیادت کو اس سے آگاہ کردیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کارروائی کردیا گیا ہے۔ادھر سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ پارٹی دفتر کی فروخت کے پیچھے گرو پ بند ی ہے۔بی جے پی کے مقامی لیڈرنے کہا کہ ترنمول کانگریس میں گروہ بندی شباب پر ہے اور اب چوں کہ ترنمول کانگریس کے دن گزرگئے ہیں اس لئے لیڈران مکان پیج کر جارہے ہیں۔