مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کے بیل ڈانگا کے رہنے والے کم عمر اقبال کی دردناک کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اقبال ایک طبی مسئلے کے باعث طویل عرصے تک تالاب کے پانی میں رہنے پر مجبور تھا۔ اب ریلائنس انڈسٹریز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اننت امبانی نے اس کی مدد کے لیے قدم آگے بڑھایا ہے اور اسے خصوصی علاج کے لیے ممبئی منتقل کیا گیا ہے۔
پانی سے باہر آتے ہی پورے جسم میں شدید جلن
رپورٹس کے مطابق اقبال کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ تالاب کے پانی سے باہر آتا تھا تو اسے پورے جسم میں شدید جلن محسوس ہوتی تھی۔ اسی تکلیف سے بچنے کے لیے وہ گھنٹوں بلکہ کئی مرتبہ دن رات پانی میں رہتا تھا۔ اقبال نے یہ بھی بتایا کہ اسے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی غیر مرئی یا مافوق الفطرت طاقت کا اثر اس پر ہو، جس کے باعث وہ دوبارہ پانی میں چلا جاتا تھا۔
سوشل میڈیا پر اقبال کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ تالاب میں بیٹھ کر ناشتہ کرتے ہوئے نظر آیا۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد طبی ماہرین کی توجہ اس معاملے کی جانب مبذول ہوئی اور اس کے کیس کا جائزہ لیا گیا۔
مالی مشکلات کے باعث علاج میں رکاوٹ
اقبال کے والدین نے بتایا کہ وہ پہلے بھی اسے اسپتال لے جا چکے ہیں، لیکن اس کی حالت میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔ خاندان کی مالی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ طویل عرصے تک مہنگا علاج جاری رکھ سکیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے مدد کی اپیل کی تھی۔
اننت امبانی نے علاج کی ذمہ داری اٹھائی
اقبال کی حالت کی اطلاع اننت امبانی تک پہنچنے کے بعد ان کی ہدایت پر اسے ممبئی منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے۔ اقبال کو خصوصی طبی معائنے اور علاج کے لیے ممبئی کے سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ماہر ڈاکٹر اس کی حالت کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
طویل عرصے تک پانی میں رہنا صحت کے لیے خطرناک
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل کئی گھنٹوں تک پانی میں رہنا صحت، خصوصاً جلد کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک پانی میں رہنے سے جلد نرم اور کمزور ہوسکتی ہے، جس سے جلن، دراڑیں اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مسلسل نمی کی وجہ سے فنگل اور بیکٹیریا کے انفیکشن کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔
اب ممبئی میں اقبال کی طبی ماہرین کی نگرانی میں مکمل جانچ ہوگی۔ ڈاکٹروں کی کوشش ہوگی کہ اس غیر معمولی کیفیت کی اصل وجہ کا پتہ لگایا جائے اور اس کے مطابق مناسب علاج شروع کیا جائے۔
اقبال کے لیے ممبئی پہنچنا ایک نئی امید کی شروعات ہے۔ اننت امبانی کی مداخلت کے بعد اب اسے ملک کے بڑے طبی ماہرین سے علاج کی سہولت مل رہی ہے۔