از:ظفر اللہ خان
تاریخ کاحامل اورتھانے ضلع میں قومی شاہراہ کے اردگردایک خط میں بسامسلم اکثریت شہر ممبراجسے عربوں نے فتح کرکے اسے اپنامسکن بنایااسی دورسے مسلم مخالفین کی نگاہوں کوکھٹکتا رہاہے،جہاں آزادئ ہند کے بعدسے ہی فرقہ پرست اربابِ سیاست اورغلام انتظامیہ کاسوتیلاپن مقامی مسلم باشندوں کے خلاف سداکار فرمارہاہے،دراصل۸۰۔۹۰ کے عشرے میں جب ممبئی کے مسلم تاجران ایک تجارتی منصوبے کے تحت ممبرااورمیراروڈکے درمیان ایک کمرشیل کاریڈوربنانے لگے توبھگوے کاغذی شیرنے شورمچادیاکہ بھومی پوتروں کی زمینیں ہتھیاکرمسلمان ’’منی پاکستان‘‘ بنانے جارہے ہیں جس کے بعدمسلم تاجران اورمقامی باشندوں میں رسی کشی کاآغازہوا،اسی دوران میمن برادی کے زیراثر ممبراریتی بندرکو۱۹۸۴ ء کے فسادات میں مکمل تاراج کرکے وہاں بھومی پوتر فرمارواوں کومتعین کردیاگیااس کے باوجودیہ بھومی پوتراپنامال بیچنے کیلئے میمن تاجران کے محتاج رہے جنہوں نے ۲۲؍گاوں کے باہرکے ماحول سے ان بھومی پوتروں کودنیاسے روشناس کروایا،یہ وہی ریتی بندرتھاجہاں سے ممبئی اورمہاممبئی کی تعمیرکاآغازہواتھا،ممبراکی ریت اوردیواکی اینٹوں سے ممبئی ،نئی ممبئی اورمہاممبئی کی کئی عمارتوں کی تعمیرہوئی،جہاں سے لحیم شحیم اربابِ سیاست نے جنم لیااسی دوران ممبرا کے اُفق سے شیوسینک آننددیگھے کے زعفرانی گڑھ کی بلدیہ پر راج کرنے والا میئرتھانے بلدیہ نعیم خان نے بھی جنم لیاجودراصل ممبراکے مسلمان تھے اورجنہیں دیکھ کرفرقہ پرست بلبلااُٹھّے،یہاں سے پھرایکبارممبرانیک نامی کیساتھ منظرعام پرآیا،پھر۹۲۔۹۳ ء میں فساد زدگان نے اس شہرکونئی پہچان دی اوراسے اسقدرآبادکردیاکہ مختلف تہذیب وثقافتوں سے شہر لبریزہوگیا،اسی دوران ۱۲؍مارچ ۱۹۹۳ ء بروزجمعہ کوہونے والے ممبئی بم بلاسٹ کے بعدمبین اپارٹمنٹ ممبرامیں برآمدآرڈی ایکس کے سبب عالمی جانچ ایجنسیوں کے رڈارپر ممبرانمودارہوا،تب سے فرقہ پرست اوراُن کے ہم خیال ایجنسیاں ممبراکو ’’منی پاکستان‘‘کے نام سے پکارنے لگے جونہایت تضحیک آمیزتھا،
ممبئی سے آئے مہاجرین کوآبادکرنے کیلئے اُس زمانے کے اثردارلوگوں نے قانون کوبالائے طاق رکھ ،دھڑادھڑکانکریٹ کاجنگل کھڑاکرکے شہربھرمیں دو۔تین ۔چارمنزلہ عمارتوں پرمشتمل ایک رفیوجی کیمپ تیارکردیاجہاں بنیادی سہولیات کازبردست فقدان تھا،انہیں تعمیراتی سرگرمیوں میں مقامی باشندگان و کئی فسادزدگان کوروزگاربھی میسرآئے،ممبئی ومضافات سے ہجرت کرکے ممبراآئے باشندوں کو گھربسانے اورسجانے کیلئے بھنڈی بازار،ناخدامحلّہ،پائیدھونی اورنل بازارجیسے بازاروں کی ضرورت محسوس ہوئی توممبراکوسہ میں کئی بازارلگ گئے جہاں حسبِ مسلم تہذیب وثقافت تمام اشیاء دستیاب ہونے لگی،ان بازاروں میں شیوسینک زین الدین چوگلے کے ذریعے قلبِ شہرگُلاب پارک مارکیٹ نامی سب سے بڑابازارقائم ہواتھاجہاں آج بھی حسبِ تمام ضروریاتِ زندگی دستیاب ہیں یوں رفتہ رفتہ ممبرا شہردوبارہ آبادہونے لگااورفسادزگان کیلئے پُرسکون پناہ گاہ بن گیاجہاں بیشتر منافق مخبروں کانیٹ ورک سرگرم تھاجومسلم مخالفین کے’’ انٹینا‘‘کی حیثیت سے بستی میں سرگرم ہوگئے ،حالانکہ علاقے میں لاقانونیت کابول بالاتھااس کے باوجودکچھ مسلم مصلّح و قائدین انصاف قائم کئے ہوئے تھے،ہرایک کا اپنا دربارتھا، اپنی فوج(نفری) تھی اوراپناقانون(ڈنڈا)،یہی سبب تھاکہ علاقے میں طاقت کاتوازن برقرارتھااورعلاقے میں غیرمسلم باشندگان کواقلیت ہونے کاکبھی احساس نہیں ہوابلکہ سبھی شیروشکرکی مصداق یکجہتی کی مثال قائم کئے ہوئے تھے،خاص یہ کہ ۱۹۸۴ ء میں ریتی بندر کے یکطرفہ فسادات کے بعدایک بھی فسادشہرمیں نہیں ہوا،حالانکہ مرکزمیں فرقہ پرستوں کے اچھے دن آجانے کے بعدگنیش چترتھی کے موقعے پرکوسہ گاوں میں کچھ نوجوانوں کی شرپسندی منظرِعام پرآئی تھی جسے مقامی پولیس اورکمشنریٹ کے زیرِاثراعلیٰ حکّام نے کچل کررکھدیا تھا،تھانے شہرکی بلدیہ آج بھی فرقہ پرستوں کے زیراثرہے تاہم ممبراکے منہ زورباشندوں اورہاتھ چھوڑنوجوانوں کے خوف سے بیشترسرکش اہلکارانِ انتظامیہ تھرّاتے نظرآتے ہیں اورذراذرسی بات پرپولیس میں شکایات درج کرنے بیٹھ جاتے ہیں،
ممبراشہرکی تعلیمی لیاقت کایہ عالم ہے کہ دوچار باقاعدہ وباضابطہ تعلیمی مراکزکے علاوہ آج جابجاتعلیمی دوکانیں کھُلی ہیں جہاں زیورِتعلیم سے آراستہ کرنے کے نام پرطلباکے والدین وسرپرستوں سے خوب چاندی کاٹی جارہی ہے،سرکارنے اپنی ذمّہ داری نبھاتے ہوئے ثانوی تعلیم کیلئے بلدیہ کے خوب اسکول کھول دیئے ہیں جہاں دیگرسہولیات کیساتھ طلباکی اہم ضرورت یعنی’’ اساتذہ‘‘ کاہمہ وقت فقدان رہتاہے،اس کے باوجودبلدیہ کے بچّے بورڈ امتحانات ودیگرمقابلہ جاتی مسابقہ میں بھی اکثربازی مارلیتے ہیں، یہ اُنکی ذاتی لیاقت وقابلیت ہے،اس میں کسی ’’صاحب یاسرکارکاکوئی فنڈیایوگدان‘‘ شامل نہیں ہے،یہی سبب ہے کہ ممبرامیں وکاس کی ارتھی ڈھونے والے اکثرسب سے آگے چلتے ہیں اوراخبارات میں خوب تصاویرچھپواتے ہیں خواہ وکاس کیلئے انہوں نے کچھ بھی ناکیاہو،ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ مُلک کی جانچ ایجنسیوں اورپولیس انتظامیہ کواعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں میں اکثرانڈین مجاہدین وداعش کے گُرگے نظرآتے ہیں غالباًاسی لئے بیشترنوجوان اعلیٰ تعلیم کے حصول سے پرہیزکرتے ہوئے روٹی روزی کے حصول کی تگ ودومیں عمرصرف کردیتے ہیں،اس کے باوجود رشیدکمپاونڈکاایک نوجوان انڈین ایڈمنسٹریشن سروسیس امتحان پاس کرگیااورجونہی اُس کانام منظرعام پرآیااُسے سب سے پہلے تھانے کمشنریٹ کے زیراثرڈی سی پی ڈاکٹرسوامی نے ممبراپولیس اسٹیشن میں مہمانان کی موجودگی میں بلواکرخوب پذیرائی کی تھی اوردوسرے نوجوانوں کو اسراراحمدکے نقشِ قدم پرچلنے کی تلقین کی جوقابلِ ستائش ہے ،ایسانہیں کہ پورا انتظامیہ اورسارے اربابِ سیاست مسلم قوم کوناپسندکرتے ہیں ،بیشترنے ممبراکوایک نئی پہچان دی ہے مثلاًتھانے کمشنریٹ سے کمشنرپرم بیرسنگھ اورجوائنٹ کمشنرلکشمی نارائن نے تین سالوں تک ’’ممبرامیراتھن‘‘کاانعقادکرکے عالمی سطح پرممبراکونیک نامی کیساتھ پہنچادیاجس کے باوصف کافی دنوں تک ممبراسے ایک بھی دہشت گردنہیں نکلا،اُن کے جاتے ہی انتخابات سے قبل الماس کالونی سے اوردوستی کامپلیکس سے داعش کے گُرگے نمودارہوجاتے ہیں جوواقعی تشویشناک ہے۔