چکھلی(بلڈانہ):9ڈسمبر۔ گزشتہ چارسالوں میں بی جے پی وشیوسینا نے مہاراشٹر کو صرف دھوکہ دیا ہے۔ وکاس کے نام پر ریاست کو گمراہ کیا جارہا ہے اور ان دونوں کی آپسی لڑائیاں بھی محض دکھانے کے لئے ہے۔ حکومت میں شامل ان دونوں پارٹیوں کے درمیان بھلے ہی آپسی لڑائیاں ہوں، لیکن ان دونوں کا موقف ’ہم دونوں بھائی بھائی مل کر کھائیں گے‘ کی ہے۔ ان کی آپسی لڑائیاں باہر تماشا اور اندر کرتن کی طرح ہیں۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر ممبر پارلیمنٹ اشوک چوہان نے کہیں۔ وہ کانگریس پارٹی کی جانب سے ریاستی سطح پر امراو¿تی ڈویژن میں جاری جن سنگھرش یاترا کے چوتھے مرحلے کے اختتام کے موقع پر منعقدہ ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تمام مقررین نے بی جے پی وشیوسینا پر جم کرتنقید کی۔ اشوک چوہان نے کہا کہ یہ حکومت صرف گھوشنابازی کرنے والی حکومت ہے۔ اس حکومت کو فڈنویس نہیں بلکہ فسنویس حکومت ہی کہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے، جس کی وجہ سے کسانوں کو دینے کے لئے اس کی تجوری میں پیسے ہی نہیں ہیں۔ اس لئے ابھی تک کسانوں کو قرض معافی مکمل نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہاراشٹر کے ایک منحوس حکومت قرار پائی ہے اس لئے آئندہ انتخابات میں اس حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں اس حکومت نے لوگوں کو ناامیدی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔ جھوٹے سپنے دکھائے، جھوٹے وعدے کئے اورجھوٹے اعلانات کئے۔ انہوں نے کہا کہ جل یکت شیوار پروجیکٹ میں بلڈانہ ضلع میں موہکھیڑ نامی گاو¿ں بھرپور پانی والا گاو¿ں ہوگیا ہے اور اس بات کا دعویٰ خود وزیراعلیٰ نے کیا ہے۔ لیکن جب کانگریس نے حقیقی صورت حال سامنے لائی تو وزیراعلیٰ کو اپنی غلطی تسلیم کرنی پڑی۔ یہ جل یکت نہیں بلکہ جھول یکت سرکار ہے۔ حکومت کی انہیں دھوکہ بازیوں کی وجہ سے آج پورے ملک میں بی جے پی کے خلاف ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو صرف ۰۳ فیصد ووٹ ملے تھے، اور سیکولرپارٹیوں کے درمیان ۰۷ فیصد ووٹوں کے بٹوارے کی وجہ سے بی جے پی اقتدار میں آگئی۔ آئندہ انتخابات میں یہ تقسیم روکنے کے لئے تمام سیکولر پارٹیوں کے ساتھ عظیم اتحاد کرنے کی کانگریس کی کوشش ہے۔ اس موقع پر حزبِ مخالف لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل نے بھی بی جے پی وشیوسینا حکومت پر جم کرتنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مشکلات ومسائل کے حل کے لئے حکومت ہوتی ہے، لیکن فی الوقت یہ حکومت خود عوام کے لئے ایک بڑی مصیبت اور مشکل بن گئی ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں اس حکومت نے لوگوں کی مدد کرنے استحصال کیا ہے۔ اس حکومت کا اصل چہرہ عوام کے سامنے نہ آئے اس لئے یہ حکومت اپوزیشن پر تفتیشی ایجنیسوں کے ذریعے دباو¿ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت کے خلاف خبریں دکھانے والے نیوزچینلوں کی یہ حکومت زبان بند کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا مہاراشٹر آج خشک سالی سے جوجھ رہا ہے اور وزیراعلیٰ ٹرافی کا انعقاد کرنے میں مصروف ہیں۔ اب آئندہ انتخابات میں اس حکومت کو ناریل کا ٹرافی دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا نے ایودھیا معاملے میں ایک ڈرامہ کیا ہے ۔ حکومت میں رہتے ہوئے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے اب وہ رام کے نام کا جاپ کرنے لگی ہے۔بلڈانہ ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر ایم ایل اے راہل بوندرے نے کہاکہ کانگریس خشک سالی سے متاثر کسانوں کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اداکارہ کی شادی میں حاضری لگانے کی وقت ہے، لیکن خشک سالی سے متاثرلوگوں کا حال جاننے کے لئے وقت نہیں ہے۔ سابق وزیر عبدالستارنے کہا کہ ملک میں غیراعلانیہ ایمرجنسی لاگو ہے۔ بی جے پی وشیوسینا حکومت صرف وعدہ کرنے والی حکومت ہے۔ لالچ دینے والی حکومت ہے۔ انہوں نے کہ ملک کے تمام طبقات کو صرف کانگریس ہی انصاف دے سکتی ہے۔ ایم ایل اے ہرش وردھن پاٹل نے کہا کہ یہ حکومت تاریخ میں صرف دھوکہ دینے کے لئے یاد رکھی جائے گی۔ اس حکومت نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے کہ اس کا اچھے الفاظ میں تذکرہ کیا جاسکے۔ ایم ایل اے یشومتی ٹھاکر نے بی جے پی کے جھوٹے وعدوں کی قلعی اتاری تو وہیں سابق وزیر وسنت پورکے نے کانگریس وبی جے پی حکومتوں کا موازنہ کیا۔ جن سنگھرش یاترا کے اختتام کے موقع پر چکھلی میں ایک عظیم الشان سنویدھان بچاو¿ ریلی نکالی گئی ۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے سے اس ریلی کی شروعات ہوئی۔ اس ریلی میں ایک ٹریکٹر پر آئین کی پالکی رکھی گئی تھی جبکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لباس پہن کر نوجوان اپنے ہاتھوںمیں آئین تھامے اس ٹریکٹر پر سوار تھے۔ دوسرے ٹریکٹر پر سوار ہوکر کانگریس کے لیڈران عوامی استقبال کا جواب دے رہے تھے۔ ان ٹریکٹر کے آگے ہزاروں موٹرسائیکل کا قافلہ چل رہا تھا۔ اس عظیم الشان اور انوکھے سنویدھان ریلی نے پوری چکھلی کی توجہ مبذول کرلی تھی۔ اس کے بعد جلسہ¿ عام کا انعقاد ہوا جس میں ریاستی اسمبلی میں حزبِ مخالف لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل، کانگریس کے ضلعی صدر ایم ایل اے راہل بوندرے، سابق وزیر عبدالستار، ایم ایل اے یشومتی ٹھاکر، ایم ایل اے ہرش وردھن سپکال، سابق وزیر شیواجی راو¿ موگھے، وسنت پورکے، آل انڈیا کانگریس کے سکریٹری آشیش دووا، دلیپ کمار سانندا، آشیش دیشمکھ، ریاستی ترجمان ڈاکٹر راجو واگھمارے، شیام امالکر، سنجئے راٹھوڑ، ریاستی جنرل سکریٹری رام کشن اوجھا، شاہ عالم شیخ، جئے شری تائی شیلکے وغیرہ لیڈران موجود تھے۔