بی جے پی اور حلیف جماعتوں کی حکومتوں نے نصف سے زیادہ لوگوں کو کیا مایوس: سروے

گزشتہ سال ہوئے لوک سبھا الیکشن میں زبردست کامیابی حاصل کر خوش نظر آ رہی بی جے پی کے لیے ریاستوں میں اپنی پارٹی اور حلیف جماعتوں کی کارگزاری کو لے کر فکرمند ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ آئی اے این ایس-سی ووٹر کے ’اسٹیٹ آف دی نیشن‘ ریپبلک ڈے سروے کے مطابق ریاستوں میں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کی کارکردگی سے بی جے پی کو تھوڑا مایوس ہونا پڑ سکتا ہے۔ بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کی حکومت والی ریاستوں میں نصف سے زیادہ لوگ حکومت کے کام سے مطمئن نہیں ہیں۔

جس ریاست میں بی جے پی حکومت سے سب سے زیادہ ناراضگی ہے، وہ ہے گوا، جہاں تقریباً 63 فیصد لوگ مانتے ہیں کہ حکومت کی کارگزاری ٹھیک نہیں ہے۔ گوا میں چار فیصد لوگوں نے ہی کہا کہ وہ حکومت کی کارکردگی سے ’بہت مطمئن‘ ہیں۔

گوا کے بعد شمال مشرق کی ریاستوں کے لوگ بھی اپنی اپنی ریاست کی حکومت کے کام سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ ان ریاستوں میں تقریباً 59 فیصد لوگ بی جے پی کی قیادت والی حکومتوں کے کام سے ناراض ہیں۔ صرف 41.2 فیصد جواب دہندگان نے دعویٰ کیا کہ وہ حکومت کے کام سے کچھ حد تک مطمئن ہیں۔

کمزور کارکردگی پیش کرنے والی دیگر ریاستوں میں ہریانہ اور تمل ناڈو کی کارکردگی کانگریس حکمراں پنجاب سے خراب ہے۔ ہریانہ میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت ہے اور تمل ناڈو میں اس کی حلیف جماعت اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت والی حکومت ہے۔

اس کے برعکس پنجاب کے تقریباً 82 فیصد لوگ حکومت کے کام سے مطمئن ہیں جب کہ ہریانہ میں صرف 9.1 فیصد اور تمل ناڈو میں صرف ایک فیصد لوگوں نے ہی کہا کہ ان کی حکومت سبھی معنوں میں اچھا کام نہیں کر رہی ہے۔ وہیں اڈیشہ، ہماچل پردیش اور جھارکھنڈ کے جواب دہندگان نے اپنی اپنی حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی۔ اچھی کارکردگی پیش کرنے والی حکومتوں میں بی جے ڈی کے نوین پٹنایک کی قیادت والی اڈیشہ حکومت سرفہرست ہے کیونکہ 80 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ ان کی حکومت اچھا کام کر رہی ہے۔ جھارکھنڈ میں حال ہی میں جے ایم ایم-کانگریس-آر جے ڈی اتحاد کی حکومت بنی ہے۔ اس ریاست کے 69.2 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ ہیمنت سورین حکومت کے کام سے کافی مطمئن ہیں۔

آئی اے این ایس-سی ووٹر کے ’اسٹیٹ آف دی نیشن‘ ریپبلک ڈے سروے کا نتیجہ 25 جنوری سے پہلے کے 12 ہفتوں کے دوران کرائے گئے سروے کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔ سروے 543 لوک سبھا حلقوں کے 30240 لوگوں کے درمیان کرایا گیا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading