بیڑ:2 دسمبر (سراج آرزو)ملیہ گرلز اینڈ بوائز ہائی سکول بیڑ فحش ویڈیو کے معاملے میں ادارے نے زیر تعلیم طلباءوطالبات کے والدین کے مختلف مطالبات کواپنی سطح پر سلیم کر لیا ہے اور مزید ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کااعلان بھی کیا ہے ۔سوسائٹی کی جانب سے واضح کیئے گئے تحریری اقدامی اعلان میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں قصور وار ٹیچر اورخاتون ٹیچرس کو معطل کر دیا گیا۔ہے، جس میں قاضی عامر احمدرفعت احمد اسٹنٹ ٹیچر ملیہ سیکنڈری اسکول فار بوائز، بیڑ کے 3 خواتین اساتذہ کو مہاراشٹر اسٹیٹ سروس کنڈیشنز رولز 1977 اور 1981 کے تحت قانونی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور 2 معلمات نے رضا کارانہ ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔
حکومت اور ماہر وکلاءکے مشورے کے مطابق مزید کارروائی جاری ہے اور اس میں قصور وار دیگر ملازمین کے خلاف بھی قواعد کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ سوسائٹی نے یہ واضح کیا کہ متعلقہ ٹیچر کو مستقبل میںکسی بھی حالت میں اسکول جوائن نہیں کرنے دیں گے۔ اس کے لیے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سوسائٹی ماہر وکلاءکے ذریعے عدالت میں پیروی کرے گی۔ مذکورہ معاملے کے حوالے سے معطلی کے عمل کے بعد سو سائٹی نے قانونی ماہرین کے مشورے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں ادارے کے نمائندے، متعلقہ اسکول کے پرنسپل اور ریاستی یا قومی مثالی استاد ایوارڈ یافتہ کمیٹی کے ارکان کے طور پر شامل ہوں گے۔
نیز اس وقت کے پرنسپل کمیٹی میں بطور رکن رہیں گے۔ نیز قصور وار اساتذہ کی بجائے ان کی طرف سے کوئی نمائندہ دیا جائے۔ انکوائری کمیٹی چارج شیٹ کے مطابق مذکورہ ٹیچر کو معطل کرنے کی کارروائی کو غیر جانبداری اور پوری توجہ کے ساتھ مکمل کرے گی۔ اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز، آڈیوز اور تصاویر کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ اسکول کی انتظامیہ اور انتظامی میٹی کے ذمہ دار پولیس اسٹیشن میں سائبر کرائم کی شکایت درج کرائیں گئے اور تحریری طور پر کاپی میڈیا اور نیوز لیٹر میں شائع کی جائے گی۔ ادارے کے تحت چلنے والی تمام برانچوں کی عمارت میں سی سی ٹی وی پہلے سے نصب ہیں۔
اسکول کے کلاس رومز میں بھی کیمرے نصب ہیں اور دفاتر جیسے لیبارٹریز ، لائبریری وغیرہ بھی سی سی ٹی وی سے لیس ہیں مزید کیمروں کی تنصیب کا کام جاری ہے۔ ایجنسی کے ذریعے ملیہ گرلز اینڈ بوائز اسکول کے داخلی دروازے پر سیکیورٹی گارڈز تعینات کئے جائیں گے۔ نیز اسکول کے احاطے میں داخل ہوتے وقت قواعد کی پابندی کی جائے گی اور اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ کسی بھی طالب علم کو بغیر شناختی کارڈ کے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ملیہ بوائز اسکول کی خواتین اساتذہ کو گرلز اسکول جبکہ گرلز اسکول کے مرد اسا تذہ کو ادارے کے دوسرے اسکول میں بھیجا جا رہا ہے۔
اس عمل میں کچھ اساتذہ کو تکنیکی مشکلات کی وجہ سے جلد از جلد بھیج دیا جائے گا۔ اسکول کے اوقات میں اسکول کے احاطے میں اساتذہ اور عملے کے ساتھ ساتھ طلبائ کے موبائل فون کے استعمال پر سختی سے پابندی ہوگی۔ کلاس اسے سینئر کالجز اور سالانہ سنیہ سمیلا تک تعلیمی سیر کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ مذکورہ پخش ویڈیو کیس میں والدین کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے جلد از جلد ٹیچر پیرٹ میٹنگ کا انعقاد کیاجائے گا اور ادارے اور اسکول کی ذمہ داری رہے گی کہ وہ والدین کو معلومات دے کر ان کا اعتماد حاصل کریں۔
تمام جامع مسائل کے بارے میں اسکول میں اساتذہ کی سر پرستی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس میں نامور شہری ، ڈاکٹر ، وکیل، انجینئر ، صحافی، ریٹائرڈ اساتذہ، مذہبی رہنما وغیرہ شامل ہوں گے۔ سوسائٹی کی جانب سے یہ بھی ضمانت دی گئی ہے کہ تمام پرائمری، سیکنڈری، ہائر سیکنڈری ، ڈی۔ ایڈ، بزنس کورسز سینئر کالج وغیرہ شعبہ جات کی طالبات ، طالبات اور خواتین ملازمین کی سیکورٹی کا زیادہ سختی سے خیال رکھا جائے گا۔ سوسائٹی کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ مذکورہ اسکول طلبائ کے لیے تھا اور رہے گا،
والدین اپنے بچوں کو روزانہ با قاعدگی سے اسکول بھیجیں اور اپنے بچوں کے تعلیمی نقصان سے بچیں۔ مذکورہ تمام تین سوسائٹی کی سکریٹری خان صبیحہ باجی ، ملیہ گرلس اسکول کے صدر مدرس صدیقی عرفان سعد اللہ، بوائز اسکول کے صدر مدرس سید عبد الستار کی جانب سے تحریری طور پر دیئے گئے ہیں۔