بیڑ ضلع میں تبلیغی جماعت کے ارکان کوفرقہ پرستوں نے نشانہ بنایا‘جان سے مارنے کی کوشش

جملہ 5 افراد کی شناخت، دو گرفتار، دیگر تین کے لیے سرچ ٹیم کی تشکیل : ضلع ایس پی

اورنگ آباد :18 ستمبر (یو این آئی) ملک کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہے ظلم و ستم اور ہجومی تشدد اور ذدوکوب کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، کچھ دن گزرتے نہیں ہیں کہ اس طرح کے ہجومی تشدد کے ذریعے سے مسلمانوں کو ہلاک کرنے یا شدید زخمی کرنے کےکسی نہ کسی نئے واقعہ کی اطلاع آجاتی ہے۔اسی طرح کے ایک معاملے میں اب علاقہ مراٹھواڑہ کے بیڑ ضلع میں شرپسندوں فرقہ پرست عناصر نے مسلمانوں پر منظم حملہ کر کے انھیں شدید زخمی کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بیڑ ضلع کے تعلقے دھارور سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے افراد کو 16 ستمبر کی رات میں فرقہ پرست غنڈوں نے اپنے تشدد کا نشانہ بنا کر انھیں جان سے مارنے کی کوشش کی،اور انھیں شدیدزخمی کر کے فرار ہو گیے۔بیڑ ضلع پولیس سپرنٹینڈنٹ ہرش پوتدار نے اس ضمن میں آج یو این آئی کو بتایا کہ اس معاملے میں کل رات دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اور ان کے علاوہ مزید 3 افراد کی شناخت کی گئی اور اور انکی گرفتاری کے لیے سرچ ٹیم بنائی گئی ہے۔ جلد ہی انھیں بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔اطلاع کے مطابق دھارور کے تبلیغی جماعت کے امیر اور انکے کچھ ساتھی ایک تدفین اور جنازہ میں کے لیے رات میں دھارور سے امبہ جوگائی جا رہے تھے، راستے میں کیج – امبہ جوگائی روڈ پر انکی کار خراب ہو گئی۔جسکے سبب وہ لوگ راستے میں رک کر کار کا جائزہ لینے لگے، کار کے ریڈیٹر میں پانی ختم ہونے سے دھواں نکل رہا تھا، اس لیے دو لوگ پانی لانے کے لیے گیے،

اسی دوران وہاں موٹر سائیکل پر سوار دو افراد آپہنچے اور انھوں نے آتے ہی وہاں موجود قاضی نظام الدین اور انکے دوسرے ساتھی کو گالی گلوچ کی اور مارو لانڈوں کو کہہ کر اپنے دوسرے ساتھیوں کو فون کرکے بلایا، فون کرنے پر فوری قریب سے دو اور موٹر سائیکلوں پر سوار 6 لوگ وہاں پہنچ گئے اور ڈنڈوں اور راستے پر پڑے ہوئے پتھروں سے انکے سروں پر مار پیٹ کر کے انھیں شدید زخمی کر دیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading