بیٹے کو ٹکٹ نہ ملنے سے دلبرداشتہ سابق وزیر نے دم توڑا

بارہ بنکی:31جنوری(یواین آئی) اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی کے دریا آباد اسمبلی حلقے کی چھ بار نمائندگی کرچکے سابق وزیر راجیو کمار سنگھ پیر کی صبح لکھنؤ میں دوران علاج انتقال وہ ہوگیا۔ وہ لمبے عرصے سے علیل تھے۔اہل خانہ کے مطابق مرحوم لیڈر دریا آباد اسمبلی حلقے سے بیٹے کو سماج وادی پارٹی (ایس پی) سے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے کافی دلبرداشتہ تھے ۔ دو دن پہلے ان کی حالت بگڑ گئی تھی جس کے بعد انہیں لکھنؤ کے پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ آج صبح دوران علاج ان کی موت ہوگئی۔ہڈہا راج گھرانے سے تعلق رکھنے والے راجیو کمار سنگھ نے اپنا سیاسی سفر کا آغاز1985 میں آزادی امیدوار کی حیثیت سے کیا تھا۔

1989 میں کانگریس کے ٹکٹ پر انہوں نے پہلی بار اسمبلی کی دہلیز کو عبور کیا جبکہ 1996 میں وہ بی جے پی امیدوار کے طور پر اسمبلی پہنچے۔سال 2002 میں دوبارہ بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور اسمبلی میں حلقے کی نمائندگی کی۔راجہ راجیو کمار سنگھ نے سال 2007 اور سال 2012 میں ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن میں جیت کا پرچم بلند کیا۔ سال 2012 میں وہ اکھلیش کابینہ کا بھی حصہ رہے حالانکہ سال 2017 کے انتخابات میں بی جے پی لہر میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑاتھا۔دراز عمر اور بیماری کی وجہ سے وہ ایس پی سے اپنے بیٹے رنکو سنگھ کے لئے دریا آباد سے ٹکٹ مانگ رہے تھے۔

کئی مہینوں سے حلقے میں انتخابی مہم کررہے سابق وزیر کے بیٹے کی جگہ پر ایس پی سربراہ نے دریا آباد سے اروند سنگھ گھوپ کو ایس پی کا امیدوار بنا دیا۔جس کے بعد انہوں نے کارکنوں کے ساتھ میٹنگ کر کے ایس پی قیادت کو فیصلہ تبدیل کرنے کے لئے دو دن کا وقت دیا تھا۔ ہفتہ کو اچانک ان کی طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں لکھنؤ کے میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔آج صبح ان کا اسپتال میں ہی انتقال ہوگیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading