
مقبول سلیم کی صدارت میں منعقدہ منتخب ہم خیال شخصیات کے اجلاس میں پُرزور مطالبہ
ناندیڑ:15جولائی۔(ورق تازہ نیوز)ریاستی اسمبلی الیکشن میں ناندیڑ(شمال) حلقہ انتخاب سے بہوجن ونچت اگھاڑی مسلم امیدوار کو الیکشن میں اتارے اس مطالبہ پر غور وخوص کرنے بروز اتوار14جولائی دوپہرتین بجے اسری نگر میں شہر کے چنندہ ہم خیال ذی اثر مسلم شخصیات کا ایک اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس کی صدارت سینئر قائد ایڈوکیٹ محمد مقبول سلیم نے کی جبکہ کنوینرعبدالوحیدگورنمنٹ کنٹریکٹر تھے ۔ محمودعلی سحر ‘ محمدتقی (مدیراعلیٰ روزنامہ ورق تازہ )‘الطاف ثانی ( مدیر ناندیڑ تحریک ) ‘ شکیل احمد صدیقی‘حبیب باوزیر (سابق کارپوریٹر)‘ رئیس احمدبیدری (سابق کارپوریٹر) ‘ خورشیداحمد ‘ سعید خاں (سابق کارپوریٹر) ‘ صدیقی مصطفی ‘ ایڈوکیٹ بلال ‘ایوب بھائی ‘ سلیم ‘ ایڈوکیٹ نصیر الدین فاروقی ‘ محمدضیاء‘اجّو اور دیگر نے شرکت کی ۔تمام شرکاءاجلاس نے متفقہ طور پرطئے کیاکہ بہوجن ونچت اگھاڑی کے قائد ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر سے بالمشافہ ملاقات کرکے اُن سے درخواست کی جائے گی کہ وہ ناندیڑ کے دونوں شمال اور جنوب حلقہ ہائے انتخاب سے اگھاڑی کے امیدوار کھڑے کرے لیکن حلقہ شمال سے کسی مسلم امیدوار کوٹکٹ دے۔اگرایسا ہوتا ہے تو دونوں حلقوں سے ونچت اگھاڑی کے امیدواروں کی کامیابی کے روشن امکانات ہیں ۔ کیونکہ حالیہ لو ک سبھا انتخابات میں ناندیڑ حلقہ سے اگھاڑی کے امیدوار کو بڑی تعداد میں مسلم ]دلت اور دیگر پسماندہ طبقات نے اپناووٹ دے کر اتحاد کا ثبوت دیا ہے ۔ اگھاڑی میں بھاریپ بہوجن مہاسنگھ اور مجلس اتحاد المسلمین شامل ہونے سے دلت اورمسلم اتحادہوا ہے ۔یہ اتحاد اقتدار میں شراکت کے حصول کےلئے وجود میں آیا ہے ۔ اب تک کانگریس اور راشٹروادی کانگریس نے دلتوںاور مسلمانوں کے ووٹوںسے مرکز اورریاست میں کئی دہائیوں سے حکومت کی ہے مگر دلتوں اورمسلمانوں کواقتدار میں حصہ نہیں دیاتھااور نہ ہی اُن کی پسماندگی کودور کرنے کوئی ٹھوس قدم اٹھایاگیا ۔ مہاراشٹر کی بی جے پی ۔شیوسینا اتحاد کی حکومت بھی مسلمانوں اوردلتوں کی ہمہ جہت ترقی کی سخت مخالف ہے یہ صرف دھرم کے نام پر سیاست کے حق میں ہے ۔ بالخصوص اقلیتوں کے ساتھ اس کا معاندانہ رویہ ہے اس لئے ریاست سے اس زعفرانی حکومت کے خاتمے کے لئے دلت مسلم اتحاد وقت کی اشد ضرورت ہے ۔شرکاءنے اس طرح اپنے خیالات کااظہار کیا ۔آخر میں کنوینر عبدالوحید کنٹریکٹر کے شکریہ پر اجلاس کااختتام عمل میں آیا ۔ آئندہ بھی سیاسی صورتحال کے مطابق اس طرح کے اجلاس منعقد کئے جاتے رہیںگے۔اورمزید افراد اور شخصیات کومدعو کیاجائے گا۔