بہار : قربانی کی کھالوں کو ضائع کرنا شرعاً درست نہیں !

پٹنہ ۔ 06 اگست 2019
قربانی کی کھالوں کو ضائع کرنا شرعاً درست نہیں۔ صحیح وسلامت چرم قربانی کو جان بوجھ کرکاٹ یا جلاکر ناقص و برباد کرنا یا اسے دفن کرنااور گاڑ دینا از روئے شریعت کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ قیمتیں گھٹتی اور بڑھتی رہتی ہیں اس کی وجہہ کر کسی ظن اور گمان پر اس طرح کا فیصلہ لینا مناسب نہیںجامعہ منعمیہ کے دارالافتاء کی جانب سے منعقدہ ایک غیر معمولی نشست میں شرکت کرنے والے مختلف مسالک اور مکاتب کے علماء ودانشور حضرات نے یہ اظہار خیال فرمایا۔ الحاج سید ثناء اللہ رضوی، سر پرست ادارہ شرعیہ نے فرمایاکہ مدارس اسلامیہ کو ہر سال کی طرح امسال بھی اپنے اپنے ادارے کے لئے قربانی کرنے والے حضرات کی چرم قربانی کو وصول کرنا چاہیے اور ملت کے افراد کو حسب معمول اپنا چرم مدارس کو ہی دینا چاہیے اور اسے ضائع کرنے سے بچنا چاہیے۔ جماعت اسلامی ہند کے نمائند ہ جناب ضیاء القمرنے تاریخ اسلامی کی کئی نظیریں پیش کیں اور قربانی کے چمڑوں کو ضائع کرنے سے بچنے کے بجائے معمول کے مطابق مدارس کو دینے پر زور دیا۔ جناب سید حسنین پاشا صدر انجمن فلاح ملت ریاست بہار نے ایسے وقت میں جبکہ عوام پر یشان اور بے چین ہے ،جامعہ منعمیہ کی اس نشست کو نہایت کار آمد بتایا اور اس کے متفقہ فیصلے کو مناسب بتایا اور کہاکہ کھالوں کو ضائع کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ مولانا محب اللہ مصباحی نے صحیح مسلم سے ایک مردہ بکری کے سلسلے میں ارشاد رسالت مآب ﷺکا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ شارع علیہ السلام نے تو اس کی کھال کو بھی برباد کرنے سے منع فرمایا ہے چہ جائیکہ قربانی کی کھال کو ضائع کیا جائے۔ مولانا مفیض الدین مصباحی نے حدیث و فقہ کی روشنی میں احتکار اور مال متقوم کا حوالہ دیتے ہوئے کھالوں کے ضائع کرنے کو غیر شرعی بتایا۔ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عاشق حسین رضوی نے مال کو ضائع کرنے کی شرعی ممانعت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قربانی کی کھال بھی مال ہے اور اسے ضائع کر نا غیر شرعی ہے۔ انجمن محمدیہ کے سکریڑی جناب معراج ضیا نے قربانی کی کھالوں کے سلسلے میں عوامی بے چینی و اضطراب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قربانی کی کھالوں کو برباد کرنایا دفن کرنا بالکل نیا کام ہے اور یہ ایک مشکل کام ہے اور اگر دفن کرنے میں کچھ بھی بے احتیاطی ہوتو یہ الگ مسئلہ بن جائے گا۔ جامعہ منعمیہ کے دارالافتاء کی جانب سے مفتی ذوالفقارمصباحی نے تمام گفتگو کا خلاصہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ضائع کرنے میں اگر کچھ حکمت بھی ہو تو ضائع کرنے سے بہتر اور افضل اسے حسب دستور نادار وں اور ضرورت مندوں اور ان کی کفالت کرنے والوں کو دے دینا زیادہ مناسب ہے۔ صدر نشست حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی سجادہ نشیں خانقاہ منعمیہ وسرپرست جامعہ منعمیہ نے فرمایا کہ قربانی کرنے والے حضرات دوسروں کی دلآ زاری کرنے سے بہر حال پر ہیز کریں اور قربانی کے پس ماندہ حصوں کو اِدھر ُادھر نہ پھیکیں اور صاف ، صفائی، آداب وانتظام کا خاص خیال رکھیں۔ سرپرست جامعہ کی دعاؤں پر یہ جلسہ اختتام پذیرہوا۔ شرکاء میں خانقاہ بلخیہ رائے پور فتوحہ کے سید ابصارالدین بلخی، مولانا محمد وسیم اختر ،مولانامحمد حسین ،مولانا عرفان علی، مولانامحمد نعمان حیدر، مولانامحمد مختار عالم، مولانامحمد جمشید انصاری، مولانا محمد حامد رضا ،مولانا محمد آفتاب عالم ،مولانا محمد صدیق عالم ، مولانامحمد شعبان رضا،سید حامد، سید رضاء الرحمن، جناب اشرف فریدی، قاری شہود الحق مدرسہ گلشن ابراہیم پٹنہ سیٹی وغیرہ نے شرکت کی ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading