میئر جاوید دلوی کے ہاتھوں کتاب کا اجراء، صاحب کتاب اور مدیر ’’ ہفت روزہ حالات ‘‘کی پزیرائی
بھیونڈی (شارف انصاری):بھیونڈی میں اردو کے معروف قلم کار اور ہفت روزہ حالات کے مستقل کالم نگارانور کھوت کی کتاب ’’گزشتہ بھیونڈی ‘‘ کا اجراء اتوار کی صبح رئیس ہائی اسکول تھانے روڈ بھیونڈی کے اردو بسیرا ہال میں بھیونڈی کے میئر شری جاوید دلوی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔
اس موقع پرکوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر جناب اسلم فقیہ نے کہا کہ گرچہ یہ کتاب مجھے آخری لمحوں میں ملی لیکن دوران سفر انہوں نے آدھی سے زیادہ پڑھ ڈالی ۔اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھے اس پروگرام میں شریک ہونا تھا بلکہ اس کتاب میں شامل مضامین اتنے دلچسپ، دلکش اور معلوماتی ہیں کہ میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ تاریخ کی کتاب نہ ہوتے ہوئے بھی برسہا برس کے تاریخی حوالے اس میں موجود ہیں جن کے تذکرے اس انداز میں کئے گئے ہیں جو انشائیے کا لطف دیتے ہیں۔بلاشبہ جو شخص بھی اس کتاب کو پڑھے گا ،بھیونڈی کے ماضی میں ڈوب جائے گا۔بطور خاص اس کتاب میں بھیونڈی اور اطراف کے گاؤں میںآباد کثیر مسلم کوکنی برادری کے رہن سہن، انکی تہذیب و تمدن ،سماجی سوچ وفکر ، تیج تہوار اور کوکنی پکوانوں کا تذکرہ بڑے ہی خوبصورت انداز میں ملتا ہے،ایکدوسرے سے رشتہ دار یوں اور حسب ونسب کا پتہ بھی چلتا ہے۔
بھیونڈی کے میئر شری جاوید دلوی نے ’’گزشتہ بھیونڈی ‘‘کے تناظر میں’’موجودہ بھیونڈی ‘‘ کا احوال معزز سامعین کے سامنے پیش کیا اور اپنے میئر شپ کے ادوار کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کس طرح بھیونڈی نظامپور شہر کارپوریشن کو کروڑوں روپئے کے قرض سے باہر نکالنے میں انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے اور انہوں نے پورے دعوے کے ساتھ کہا کہ جلد ہی شہر کی تمام سڑکیں یہاں کا خوبصورت منظر نامہ پیش کرینگی۔شری جاوید دلوی کہا کہ بھیونڈی کا ماضی محنت کشوں کی وجہ سے ہمیشہ خوشگواررہا ہے اور اسمیں دو رائے نہیں کہ انور کھوت کا حافظہ کافی مضبوط ہے لیکن اتنے سارے مضامین کو کمپویٹر پر ٹائپ کرنا اور اس کو محفوظ رکھنا در اصل حالات کے ایڈیٹر ایم ابوبکر کا کارنامہ ہے اور اس کے لئے دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں ۔
اپنی افتتاحی تقریر میں جناب شفیع محمود میاں مقری نے کہا کہ بھیونڈی میں اب تک بہت ساری کتابوں کا اجراء عمل میں آچکا ہے لیکن ساری کتابیں یا تو ادب کی ہوتی تھیں یا پھر شعرو شاعری کی، لیکن انور کھوت کی یہ کتاب ’’گزشتہ بھیونڈی ‘‘ کا تعلق بھیونڈی کے تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی معاملوں سے ہے اس لئے بھی یہ کتاب تمام لوگوں متاثر کرے گی۔ہر کوئی اسے خریدنا اور پڑھنا چاہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قوم جو اپنے ماضی سے اور اپنے اسلاف کے تعلق سے اگر معلومات نہیں رکھتی یاا نھیں بھلا دیتی ہے تو ایسی قوم بہت جلد زوال پزیر ہو جاتی ہے۔
بھیونڈی کے معروف ادیب وشاعر اور انشاء پردازجناب محمد رفیع انصاری نے انور کھوت کے تعلق سے اپنا تحریر کردہ خاکہ انہتائی پر لطف اور مزاحیہ انداز میں پیش کیااور سامعین کی تالیاں بٹوریں ۔انور کھوت کا کتابی چہرہ اور ان کی پوری شبیہ ان کے خاکہ میں اتر آئی تھی، ابروئے خمیدہ کا تذکرہ بھی کچھ کم دلچسپ نہیں تھا۔جن سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی وجہ آج تک کسی کو سمجھ میںنہیںآئی۔غلام محمد مومن ویمنز کالج کے پروفیسر امیر حمزہ ثاقب نے انور کھوت کی کتاب میں شامل مضامین اور ان کے طرز تحریر اور طرز اسلوب کے حوالے سے یہ بات واضح کر دی کہ یہ کتاب گرچہ تاریخی نہیں بلکہ خالصتاً ادب کی کتاب ہے، جس میںتاریخی حوالے بھی ملتے ہیں جو انشائیے کا لطف دیتےہیں۔
ہفت روزہ حالات کے ایڈیٹر ایم ابوبکر نے کہا کہ جناب انور کھوت کے مضامین ہمیشہ قلم برداشتہ ہوا کرتے تھے۔دفتر آکر انھوں نے چند گھنٹوں میں اپنی یاداشت کے سہارے بیشتر مضامین قلم بند کئے اور کبھی ان پر نظرثانی کی انھیں ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ان کا طرز اسلوب سادہ اور دل کو چھو لینے والا ہے ۔ اپنےقاری کو بھیونڈی کے ماضی کی اس طرح سیر کراتے ہیں گویاسارا منظر نامہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہو۔یہ ان کی تحریریوں کی خوبی ہے۔
اس موقع پر صاحب کتاب جناب انور کھوت، نذر مدعو، بلال مومن وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔صدر مجلس جناب اسلم فقیہ اور میئر جاوید دلوی کے ہاتھوں صاحب کتاب انور کھوت اور ایم ابوبکر کو شال اور تحفۂ گل پیش کر کے ان کی جملہ خدمات کے اعتراف میں پزیرائی کی گئی۔اسٹیج پر جناب شریف حسن مومن ،نذر عبداللطیف مدعو،بلال احمد علی احمد مومن،ایم ابوبکر ،عزیز الحق بوبیرے،مشتاق رضا ،محمد انور یونس ماہمی وغیرہ موجود تھے۔جناب مخلص مدعو نے انتہائی خوش اسلوبی سے نظامت کے فرائض انجام دئیے اور آخر میں جناب عبدالملک سلیمان مومن نے تمام مہمانان کرام اور معزز سامعین کا شکریہ ادا کیا۔