بھیونڈی کارپوریشن کا عجب و غضب کارنامہ ، معطل صفائی ملازم کو بنایا اسسٹنٹ کمشنر

انتظامیہ کی سرگرمیوں پر اٹھے سوالات’کمشنر سے شکایت کاروائی کی مانگ

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کارپوریشن میں ایک عجیب و غریب معاملہ روشنی میں آیا ہے ۔ کارپوریشن کے ( استھاپنا وبھاگ ) محکمہ تنصیب نے قائدہ و قوانین کو طاق پر رکھ کر صفائی ملازم کو اسسٹنٹ کمشنر بنا ڈالا ہے ۔ جو غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دینے کے معاملے میں پہلے معطل بھی ہو چکا ہے ۔ جس پر مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ کمشنر سے اس کا ڈیموشن کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔بھیونڈی میونسپل کمشنر منوہر ہیرے اور اضافی کمشنر اشوک رنكھاب کو دیئے میمورنڈم میں درگاہ روڈ رہائشی ارشاد احمد محمد صادق انصاری نے بتایا ہے کہ بھیونڈی کارپوریشن پربھاگ سمیتی کے پربھاگ افسر اور اسسٹنٹ کمشنر شمیم ​​حسین انصاری کی تقرری ایک مئی 1991 کو صفائی ملازم کے طور پر کی گئی تھی۔ جس کی تعلیمی اہلیت صرف 12 ویں پاس ہے۔ اتنا ہی نہیں اس نے کسی بھی تسلیم شدہ یونیورسٹی سے گریجویشن بھی نہیں کیا ہے ۔ انھوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ پربھاگ افسر شمیم ​​انصاری اس سے پہلے کارپوریشن کے ٹیکس اسسمنٹ محکمہ میں بطور کلرک کام کرتا تھا ۔ جسے 23 فروری 2016 کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ شہر کے بنگال پورہ علاقے میں واقع رابعیہ مسجد کے سامنے بنے گھر نمبر 366 پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ہائی کورٹ میں ایک درخواست نامہ داخل کی گئی تھی ۔ جس پر کاروائی کرنے کے ساتھ ٹیکس وصولی کرنے کی ذمہ داری شمیم انصاری پر تھی ۔ لیکن اپنے فرض کا صحیح طریقے ادا نہیں کرنے کی وجہ سے اسے معطل کر دیا گیا تھا۔ چار ماہ بعد دوبارہ بحالی کر اس کا پرموشن کر اسے اسسٹنٹ کمشنر بنا دیا گيا ۔ ارشاد انصاری نے شمیم ​​پر فوجداری کا مقدمہ درج کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading