بھیونڈی میں کانگریس ، این سی پی کا نہیں کھلا کھاتہ
بھیونڈی مشرق سے سماج وادی پارٹی کے امیدوار رئیس شیخ اور بھیونڈی مغرب سے بی جے پی کے امیدوار مہیش چوگھلے اور بھیونڈی دیہی حلقہ سے شیوسینا کے شانتارام مورے نے کرائی جیت درج
کانگریس ، شیوسینا اور ایم آئی ایم کے تجربہ کار امیدواروں کو ہوئی شکست

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی مغربی اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے موجودہ ایم ایل اے مہیش پربھاکر چوگھلے نے سہ رخی مقابلے میں ایم آئی ایم کے امیدوار و بھیونڈی راشٹروادی کانگریس پارٹی کے شہر ضلع صدر کے عہدے کو چھوڑ کر ایم آئی ایم میں شامل ہوئے شیخ خالد گڈو کو 14 ہزار 879 ووٹوں کے بھاری فرق سے شکست دیتے ہوئے دوسری مرتبہ رکن اسمبلی بننے کا شرف حاصل کیا ہے ۔ اسی طرح بھیونڈی مشرقی حلقہ اسمبلی سے سماج وادی پارٹی کے امیدوار، ممبئی کے بائیکلہ سے سماجوادی پارٹی کے کارپوریٹر رئیس قاسم شیخ نے شیوسینا کے دو مرتبہ رکن اسمبلی رہے روپیش مہاترے کو تاریخ مرتب کرتے ہوئے 1092 ووٹوں سے زبردست شکست دیتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر ابو عاصم اعظمی کے ذریعہ 10 سال قبل جیت کر چھوڑی گئی اسمبلی سیٹ پر ایک بار پھر اپنا قبضہ جمانے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔
بھیونڈی مشرق اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے مضبوط امیدوار بھیونڈی بے جے پی شہر ضلع صدر جیسے اہم عہدے کو ترک کر کے کانگریس کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے والے بی جے پی کے سینئر کارپوریٹر سنتوش شیٹی اور بھیونڈی مغرب سے بھیونڈی راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر کا عہدہ چھوڑ کر ایم آئی ایم کے حمایتی امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے والے شیخ خالد گڈو جیسے دونوں تجربہ کار و سینئر رہنماؤں کی شکست سے پورے شہر میں خاموشی چھا گئی ہے ۔

واضح ہو کہ بھیونڈی مشرق اسمبلی حلقہ سے انتخاب لڑ رہے سماج وادی پارٹی کے فاتح امیدوار رئیس قاسم شیخ کو 45154 ووٹ ملیں ، شیوسینا کے امیدوار روپیش لکشمن مہاترے کو 44062 اور کانگریس کے امیدوار سنتوش ایم شیٹی کو 31931 ووٹ ملیں ۔ سماجوادی پارٹی امیدوار رئیس قاسم شیخ نے سہ رخی مقابلے میں آخری مرحلے پر 1092 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے ۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اقلیتی اکثریتی علاقے 137 بھیونڈی مشرقی حلقہ میں کانگریس پارٹی نے بھیونڈی کارپوریشن کے 25 سالوں سے وکاس پرس کے نام سے مشہور بی جے پی کے بھیونڈی شہر ضلع صدر اور کارپوریٹر و تجربہ کار لیڈر سنتوش شیٹی ( انا) کو میدان میں اتارا تھا ۔ باوجود رائے دہنگان نے سماجوادی پارٹی کے امیدوار بائیکلہ سے آئے سماجوادی کے کارپوریٹر رئیس شیخ کو رکن اسمبلی منتخب کیا جس کی ایک ہی وجہ الیکشن کے آخری دنوں میں ہندو مسلم ووٹوں کی کھلی تقسیم کے ساتھ مسلم ووٹوں کا متحد ہونا مانا جا رہا ہے ۔ بھیونڈی مشرق اسمبلی حلقہ سے بھیونڈی کارپوریشن میں 24 کانگریسی کارپوریٹرز ہونے کے باوجود مسلم ووٹوں کے ایک طرفہ سماجوادی کی جانب جھکاو سے سماجوادی کے امیدوار رئیس شیخ انتخاب جیتنے میں کامیاب رہے۔ ، جبکہ بھیونڈی کارپوریشن میں سماجوادی پارٹی کے صرف دو کارپوریٹرز ہیں ۔

بھیونڈی مغربی حلقہ اسمبلی سے بی جے پی امیدوار موجودہ رکن اسمبلی مہیش پربھاکر چوگھلے نے ایم آئی ایم کے امیدوار شیخ خالد گڈو کو 14،879 ووٹوں کے بھاری فرق سے شکست دیں کر دوبارہ ایم ایل اے بننے کا شرف حاصل کیا ہے ۔ کانگریس پارٹی کے شہر میں کافی معروف رہے بھیونڈی شہر ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر خان شعیب گڈو تیسری پوزیشن پر رہے ۔ بتایا جاتا ہے کے ایم آئی ایم کے قومی صدر اسدالدین اویسی کےی بھیونڈی شہر میں انتخاب جلسہ کے بعد بھیونڈی مغرب میں بھی مسلم ووٹرس بڑی تیزی سے ایکجا ہوئے لیکن پھر بھی وہ ایم آئی ایم کو جیت نہ دلا سکیں ۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار مہیش چوگھلے کو 58،816 اور ایم آئی ایم کے امیدوار شیخ خالد گڈو کو 43،937 ووٹ ملیں اور کانگریس کے امیدوار شعیب گڈو کو صرف 28،345 ووٹ پر ہی سمٹ کر رہنا پڑا ۔
بھیونڈی دیہی کی 134 اسمبلی نشست جو قبائلیوں کے لئے مختص تھی اس نشست پر شیوسینا کے موجودہ ایم ایل اے شانتارام مورے اور ایم این ایس کی امیدوار شوبھانگی رمیش گواری اور این سی پی امیدوار مادھوری سسیکانت مہاترے کے مابین سہ رخی لڑائی ہوئی ۔ جس میں شیوسینا کے امیدوار شانتارام مورے کو 87 ہزار 567 ووٹ ملیں جبکہ ایم این ایس کے امیدوار شوبھانگی گواری کو 39 ہزار 58 ووٹ ہی ملیں۔ اس طرح شیوسینا کے شانتارام مورے نے ایم این ایس امیدوار شوبھانگی گواری کو 48 ہزار 509 ووٹوں سے شکست دی۔ وہی تیسرے نمبر پر رہی این سی پی کی امیدوار مادھوری ششیکانت مہاترے کو 33 ہزار 573 ووٹ ملیں ہیں ۔