بھیونڈی (شارف انصاری ):- بھیونڈی نظامپور شہر کارپوریشن گزشتہ کئی برسوں سے مالی خسارے اور نقصان میں ہونے کی ایک بڑی وجہ ٹیکس کی وصولی میں کارپوریشن ملازمین کی کوتاہی ہے۔ایک اطلاع کے مطابق ۳۰۰؍ کروڑ روپیہ شہریوں پر بقایا ہیں جس کے سبب ترقیاتی کاموں میں بڑے پیمانے پر رکاوٹیں آ رہی ہیں ۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں پربھاگ سمیتی ایک کے چیرمین ارشد اسلم انصاری نے میونسپل کمشنر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ محکمہ محصول کی ڈپٹی کمشنر شریمتی وندنا گلوے کو ان کی غیر اطمینان بخش کار کردگی اور مبینہ کوتاہی کے نتیجے میں انہیں مذکورہ عہدے سے ہٹا کر انھیں اس عہدہ کا اہل نہ ہونے کے سلسلے کی محکمہ جاتی رپورٹ حکومت کو روانہ کی جائے۔
بھیونڈی نظامپور شہرکارپوریشن کی حدود میں گزشتہ کئی برسوں سے ترقیاتی اور تعمیراتی کام رُکے پڑے ہیں جس کے سبب عوام کارپوریشن انتظامیہ سے ناراض ہے ۔وہیں دوسری جانب کارپوریشن انتظامیہ کی بقایاٹیکس وصولی میں کوتاہی اور نااہلی کے سبب ٹیکس وصولی کا محکمہ نجی ٹھیکہ دار کو سونپے جانےکی تجویز کی مخالفت کے بعد ہ طے پایا تھا کہ مارچ ۲۰۱۹ء تک اگر محصول محکمہ نے ۹۰؍ فیصد ٹیکس وصولی کی تو یہ تجویز رد کر دی جائے گی۔چیرمین محمد ارشد محمد اسلم انصاری کے مطابق شریمتی وندنا گلوی جو بنیادی طور پر چیف آفیسر کلاس ۲؍ کے عہدے کی اہل ہیںانھیں بھیونڈی کارپوریشن میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پرفائز کرتے ہوئے انھیں ٹیکس وصولی کے مذکورہ محکمہ کی ذمہ داری سونپی ہے۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے آج تک جو ٹیکس وصولی کی گئی ہے وہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ ۸۰تا۹۰؍ فیصد وصولی کا ٹارگیٹ رکھا گیا تھا لیکن وصولی صرف اور صرف ۱۷؍ فیصد ہو سکی ہے۔ پانی پٹی اور گھر پٹی کے مد میں یہاں کے شہریوں پر تقریبا ۳۰۰؍ کروڑ روپئے بقایا ہیں ۔ جبکہ ابتک کی وصولی محض ۵۰؍ کروڑ ہے۔جس سے یہ اندازا لگا یا جاسکتا ہے کہ اس محکمہ کی ڈپٹی کمشنر شریمتی وندنا گلوی کی ٹیکس وصولی کے سلسلے کی کارکردگی اطمینان بخش بالکل نہیں ہے۔چیرمین محمد ارشد اسلم انصاری مزید یہ الزام لگایا ہے کہ بڑے بڑےکارخانے دار اور سائزنگ اور ڈائنگ کے مالکان پر لاکھوں روپیوں کی گھر پٹی اور نل پٹی واجب الادا ہے لیکن ان سےمذکورہ رقوم کی وصولی کے لئے ان کے املاک کی ضبطی وغیرہ کی کسی قسم کی کوئی کارروائی انھوںنے نہیں کی اور ساتھ ہی بھیونڈی نظامپور شہر کارپوریشن کی مالی حیثیت مستحکم نہ ہونے کےباوجود بھیونڈی کو بجلی فراہم کرنے والی فرنچائسی کمپنی ٹورینٹ پاور پر سال ۲۰۱۸۔۱۹ میں مختلف مدوں میں کارپوریشن کو واجب الادا رقم جو 285,04,72,312/= ہے ابتک انھوں نے مذکورہ رقم سے ایک روپیہ بھی وصول کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی۔اگر اس رقم کی وصولی کی گئی ہوتی تو آج کارپوریشن اور یہاں کی عوام کو یہ دن دیکھنا نہیں پڑتا۔ ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر شریمتی وندنا گلوی کی ٹیکس وصولی میں ناکامی پر عوامی کی جانب سے ناراضگی کا شکار عوامی نمائندے اور عہدے دار ہوتے ہیں۔
ساتھ ہی پربھاگ سمیتی ایک کے چیرمین شری محمد ارشد اسلم انصاری سنگین الزام لگاتےہوئے کمشنر کو لکھا ہے کہ ٹیکس محکمہ کے سافٹ وئیر ٹھیکہ دار سے مبینہ طور پر ساز باز کرتے ہوئے موصوفہ نے خامیوں سے پر سافٹ وئیر انسٹال کیاہے جس کے سبب شہر میں موجود املاک کا معقول طریقے سے اندراج نہ ہونے کے سبب عوام کو مختلف النوع مسائل کا سامنا ہے۔ گھر پٹی بھرنے کے باوجود سود سمیت بقایا بل والی گھر پٹی بھیجا جانا اور بہت ساری املاک کا اندراج ہی نہیں ہو پایا ہے ان شکایات کے لئے عوام عوامی نمائندوں کو ذمہ دارگردانتی ہے اور ان مسائل کے تصفیے کے لئے ہم سے رابط کرتی ہے۔ جبکہ عوام الناس کی ان مسائل کو مذکورہ محکمہ کے افسران اور موصوفہ نے بحسن خوبی حل کروا کر کارپوریشن کے خزانہ رقم جمع ہو اس کی ترکیب کرنی چاہئے۔
دوسری اہم بات کےڈپٹی کمشنر شریمتی وندنا گلوی کے پاس صحت عامہ کا انتہائی اہم عہدہ بھی ہے۔ کارپوریشن کے حدود میں کوڑا کرکٹ کا سامراج ہے۔شہر کے اندرونی علاقوں میں آج بھی صحیح ڈھنگ اور طریقے سے صاف صفائی نہیں ہوتی ۔ صفائی ملازمین کے ذریعے کوڑا کر کٹ اٹھانے کے بجائے جے سی بی مشین کے ذریعے کچرا اٹھایا جاتا جس کے سبب کچرا ڈمپنگ کرنے کےمقامات پر گڑھے پڑ جاتےہیں اور ان میں گڑھوںمیں گندہ پانی جمع ہونے کے سبب مچھروںکی بہتات ہے اور عوام کو ملیریا ‘ٹائیفائڈ اور اس قبیل کی دیگر بیماریاں لاحق ہیں ۔ موصوفہ کبھی شہر کی صاف صفائی کی نگرانی کرنے اور عوام کو درپیش مسائل کو دیکھنے اور سمجھنے کے لئے شہر کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتی بھی نظر نہیں آتیں ۔ انھوں نے مزید یہ الزام لگایا ہے کہ مبینہ طور پر کچرا کنڈی کا ٹینڈر نکالنے بغیر ان کے محکمہ نے بازار میں کچرا کنڈی کی قیمت سے زائد قیمت ادا کرتےہوئے اس کی خریداری کی جس کے سبب کارپوریشن کو تقریبا ۲۱؍ لاکھ روپیوں کا نقصان سہنا پڑا ہے۔ چیرمین محمد ارشد اسلم انصاری نےکمشنر کو لکھے اپنے مکتوب میںمزید یہ الزام لگایا ہے کہ عوام کے مسائل سننے کے لئے موصوفہ کے پاس وقت نہیں ہے ۔ ان سے ملنےگئے لوگوںکو یہ جواب ملتا ہے کہ ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے ۔ کمشنر سے میٹنگ ہے وغیرہ وغیرہ ۔
شہروں میںسیاسی جماعتوں اوردیر تنظیموں کی جانب سے لگائے جانے والے بینئر پوسٹرس لمبے عرصےتک لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انکی جانب بھی کوئی توجہ نہیں ہے اور نہ ہی غیر قانونی طریقے سے لگائےگئے بینروں کے خلاف کوئی کارروائی بھی ہوتی ہے۔جس کا اثر کارپوریشن کو ملنے والے محصول پر ہوا ہے۔ ۲۰۱۴تا ۲۰۱۵ء میں پوسٹرس بینئرس سے ۵۱؍ لاکھ ،۲۰۱۵۔۱۶میں۳۰؍ لاکھ ، سال ۲۰۱۶۔۱۷ میں ۲۳؍ لاکھ ، سال ۲۰۱۷۔۱۸ میں ۲۵؍ لاکھ اور سال ۲۰۱۸۔۱۹ کے ۹؍ مہینوں میں 4,95,665/= ٹیکس بئینر پوسٹرس کےمد میں جمع ہوا ہے۔ان چار برسوں میں ۷۳؍ لاکھ روپیوں کو جو خسارہ ہوا ہے وہ موصوفہ سے وصول کیا جائے ایسا چیرمین ارشد انصاری نے کمشنر سے مطالبہ کیا ہے۔
چیرمین ارشد انصاری نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ مذکورہ بالا تمام باتوں کے مد نظر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ڈپٹی کمشنر شریمتی وندنا گلوی نے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مبینہ طور پر سنگین کوتاہیاں کی ہیں اور کارپوریشن کا بڑے پیمانے پر مالی نقصان کیا ہے اور انھیں جو پوسٹ دی گئی ہے اس پوسٹ پر کام کرنے کی وہ مبینہ طور پر اہل نہیں ہیں اس لئے انھیں فوری طور پر ڈپٹی کمشنر محکمہ محصول کی پوسٹ سے ہٹایاجائے اور ان کے خلاف مذکورہ عہدہ کا اہل نہ ہونے کے سلسلے کی محکمہ جاتی رپورٹ چیف سکریٹری شہری ترقیاتی محکمہ اور کوکن آیوکت کو روانہ کی جائے اور اس کارروائی سے انھیں تحریری طور پر مطلع کیا جائے۔
بھیونڈی نظامپور شہرکارپوریشن کی حدود میں گزشتہ کئی برسوں سے ترقیاتی اور تعمیراتی کام رُکے پڑے ہیں جس کے سبب عوام کارپوریشن انتظامیہ سے ناراض ہے ۔وہیں دوسری جانب کارپوریشن انتظامیہ کی بقایاٹیکس وصولی میں کوتاہی اور نااہلی کے سبب ٹیکس وصولی کا محکمہ نجی ٹھیکہ دار کو سونپے جانےکی تجویز کی مخالفت کے بعد ہ طے پایا تھا کہ مارچ ۲۰۱۹ء تک اگر محصول محکمہ نے ۹۰؍ فیصد ٹیکس وصولی کی تو یہ تجویز رد کر دی جائے گی۔چیرمین محمد ارشد محمد اسلم انصاری کے مطابق شریمتی وندنا گلوی جو بنیادی طور پر چیف آفیسر کلاس ۲؍ کے عہدے کی اہل ہیںانھیں بھیونڈی کارپوریشن میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پرفائز کرتے ہوئے انھیں ٹیکس وصولی کے مذکورہ محکمہ کی ذمہ داری سونپی ہے۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے آج تک جو ٹیکس وصولی کی گئی ہے وہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ ۸۰تا۹۰؍ فیصد وصولی کا ٹارگیٹ رکھا گیا تھا لیکن وصولی صرف اور صرف ۱۷؍ فیصد ہو سکی ہے۔ پانی پٹی اور گھر پٹی کے مد میں یہاں کے شہریوں پر تقریبا ۳۰۰؍ کروڑ روپئے بقایا ہیں ۔ جبکہ ابتک کی وصولی محض ۵۰؍ کروڑ ہے۔جس سے یہ اندازا لگا یا جاسکتا ہے کہ اس محکمہ کی ڈپٹی کمشنر شریمتی وندنا گلوی کی ٹیکس وصولی کے سلسلے کی کارکردگی اطمینان بخش بالکل نہیں ہے۔چیرمین محمد ارشد اسلم انصاری مزید یہ الزام لگایا ہے کہ بڑے بڑےکارخانے دار اور سائزنگ اور ڈائنگ کے مالکان پر لاکھوں روپیوں کی گھر پٹی اور نل پٹی واجب الادا ہے لیکن ان سےمذکورہ رقوم کی وصولی کے لئے ان کے املاک کی ضبطی وغیرہ کی کسی قسم کی کوئی کارروائی انھوںنے نہیں کی اور ساتھ ہی بھیونڈی نظامپور شہر کارپوریشن کی مالی حیثیت مستحکم نہ ہونے کےباوجود بھیونڈی کو بجلی فراہم کرنے والی فرنچائسی کمپنی ٹورینٹ پاور پر سال ۲۰۱۸۔۱۹ میں مختلف مدوں میں کارپوریشن کو واجب الادا رقم جو 285,04,72,312/= ہے ابتک انھوں نے مذکورہ رقم سے ایک روپیہ بھی وصول کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی۔اگر اس رقم کی وصولی کی گئی ہوتی تو آج کارپوریشن اور یہاں کی عوام کو یہ دن دیکھنا نہیں پڑتا۔ ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر شریمتی وندنا گلوی کی ٹیکس وصولی میں ناکامی پر عوامی کی جانب سے ناراضگی کا شکار عوامی نمائندے اور عہدے دار ہوتے ہیں۔
ساتھ ہی پربھاگ سمیتی ایک کے چیرمین شری محمد ارشد اسلم انصاری سنگین الزام لگاتےہوئے کمشنر کو لکھا ہے کہ ٹیکس محکمہ کے سافٹ وئیر ٹھیکہ دار سے مبینہ طور پر ساز باز کرتے ہوئے موصوفہ نے خامیوں سے پر سافٹ وئیر انسٹال کیاہے جس کے سبب شہر میں موجود املاک کا معقول طریقے سے اندراج نہ ہونے کے سبب عوام کو مختلف النوع مسائل کا سامنا ہے۔ گھر پٹی بھرنے کے باوجود سود سمیت بقایا بل والی گھر پٹی بھیجا جانا اور بہت ساری املاک کا اندراج ہی نہیں ہو پایا ہے ان شکایات کے لئے عوام عوامی نمائندوں کو ذمہ دارگردانتی ہے اور ان مسائل کے تصفیے کے لئے ہم سے رابط کرتی ہے۔ جبکہ عوام الناس کی ان مسائل کو مذکورہ محکمہ کے افسران اور موصوفہ نے بحسن خوبی حل کروا کر کارپوریشن کے خزانہ رقم جمع ہو اس کی ترکیب کرنی چاہئے۔
دوسری اہم بات کےڈپٹی کمشنر شریمتی وندنا گلوی کے پاس صحت عامہ کا انتہائی اہم عہدہ بھی ہے۔ کارپوریشن کے حدود میں کوڑا کرکٹ کا سامراج ہے۔شہر کے اندرونی علاقوں میں آج بھی صحیح ڈھنگ اور طریقے سے صاف صفائی نہیں ہوتی ۔ صفائی ملازمین کے ذریعے کوڑا کر کٹ اٹھانے کے بجائے جے سی بی مشین کے ذریعے کچرا اٹھایا جاتا جس کے سبب کچرا ڈمپنگ کرنے کےمقامات پر گڑھے پڑ جاتےہیں اور ان میں گڑھوںمیں گندہ پانی جمع ہونے کے سبب مچھروںکی بہتات ہے اور عوام کو ملیریا ‘ٹائیفائڈ اور اس قبیل کی دیگر بیماریاں لاحق ہیں ۔ موصوفہ کبھی شہر کی صاف صفائی کی نگرانی کرنے اور عوام کو درپیش مسائل کو دیکھنے اور سمجھنے کے لئے شہر کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتی بھی نظر نہیں آتیں ۔ انھوں نے مزید یہ الزام لگایا ہے کہ مبینہ طور پر کچرا کنڈی کا ٹینڈر نکالنے بغیر ان کے محکمہ نے بازار میں کچرا کنڈی کی قیمت سے زائد قیمت ادا کرتےہوئے اس کی خریداری کی جس کے سبب کارپوریشن کو تقریبا ۲۱؍ لاکھ روپیوں کا نقصان سہنا پڑا ہے۔ چیرمین محمد ارشد اسلم انصاری نےکمشنر کو لکھے اپنے مکتوب میںمزید یہ الزام لگایا ہے کہ عوام کے مسائل سننے کے لئے موصوفہ کے پاس وقت نہیں ہے ۔ ان سے ملنےگئے لوگوںکو یہ جواب ملتا ہے کہ ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے ۔ کمشنر سے میٹنگ ہے وغیرہ وغیرہ ۔
شہروں میںسیاسی جماعتوں اوردیر تنظیموں کی جانب سے لگائے جانے والے بینئر پوسٹرس لمبے عرصےتک لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انکی جانب بھی کوئی توجہ نہیں ہے اور نہ ہی غیر قانونی طریقے سے لگائےگئے بینروں کے خلاف کوئی کارروائی بھی ہوتی ہے۔جس کا اثر کارپوریشن کو ملنے والے محصول پر ہوا ہے۔ ۲۰۱۴تا ۲۰۱۵ء میں پوسٹرس بینئرس سے ۵۱؍ لاکھ ،۲۰۱۵۔۱۶میں۳۰؍ لاکھ ، سال ۲۰۱۶۔۱۷ میں ۲۳؍ لاکھ ، سال ۲۰۱۷۔۱۸ میں ۲۵؍ لاکھ اور سال ۲۰۱۸۔۱۹ کے ۹؍ مہینوں میں 4,95,665/= ٹیکس بئینر پوسٹرس کےمد میں جمع ہوا ہے۔ان چار برسوں میں ۷۳؍ لاکھ روپیوں کو جو خسارہ ہوا ہے وہ موصوفہ سے وصول کیا جائے ایسا چیرمین ارشد انصاری نے کمشنر سے مطالبہ کیا ہے۔
چیرمین ارشد انصاری نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ مذکورہ بالا تمام باتوں کے مد نظر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ڈپٹی کمشنر شریمتی وندنا گلوی نے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مبینہ طور پر سنگین کوتاہیاں کی ہیں اور کارپوریشن کا بڑے پیمانے پر مالی نقصان کیا ہے اور انھیں جو پوسٹ دی گئی ہے اس پوسٹ پر کام کرنے کی وہ مبینہ طور پر اہل نہیں ہیں اس لئے انھیں فوری طور پر ڈپٹی کمشنر محکمہ محصول کی پوسٹ سے ہٹایاجائے اور ان کے خلاف مذکورہ عہدہ کا اہل نہ ہونے کے سلسلے کی محکمہ جاتی رپورٹ چیف سکریٹری شہری ترقیاتی محکمہ اور کوکن آیوکت کو روانہ کی جائے اور اس کارروائی سے انھیں تحریری طور پر مطلع کیا جائے۔