بھیونڈی ( شارف انصاری ):- چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جیونت دھلے اور ان کی ٹیم ہیلتھ ڈپارٹمنٹ بھیونڈی کی آج چاروں طرف سے ستائش اور مبارک باد مل رہی ہے کہ ان کی قیادت میں ادارہ صحت کے تمام میڈیکل آفیسر اے این ایم اور پی ایچ این آشا فارماسسٹ نے مشترکہ طور پر اپنی رات و دن کی محنت اور لگن سے بھیونڈی شہر کوکرونا وائرس کے نرغے میں آنے سے بچایا ۔ ورنہ بھیونڈی شہر کے چاروں طرف کلیان ۔ ممبرا تھانہ وسئی اور پالگھر وغیرہ میں کرونا وائرس نے اپنی دہشت قائم کررکھی ہے ۔ بھیونڈی مہانگر پالیکا کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی نمائندگی کرتےہوئے ڈاکٹر جیونت دھلے نے بھیونڈی میں جب ایک بھی مریض کرونا وائرس کا نہیں تھا جب ہی ڈبلیو ایچ او کے تھانے ضلع سرویلینس میڈیکل آفیسر ڈاکٹر کشور چوہان کو بلا کر اپنی پوری ٹیم کی ٹریننگ دلائی اور پھر ذاتی طور پر اس کی نگرانی کرتے رہے جہاں لاک ڈاون کیا گیا وہیں بھیونڈی میں داخلہ کے 16 راستوں کو مہا نگر پالیکا نے بند کرادئے ۔اس طرح کرونا وائرس آنے سے پہلے روک تھام اور آنے کے بعد کیسے اسے ہینڈل کرنا ہے اس کی ٹریننگ ڈاکٹر دھلے نے اپنی ٹیم کو دے کر ٹرینڈ کردیا تھا اس کے نوڈل افیسر ۔رپورٹنگ افیسر ۔سیمپل کلیکشن ٹرانسپورٹنگ ان سبھی کاموں کے ساتھ مہانگر پالیکا کے دیگر شعبوں کا تعاون کہاں کب لینا پڑے گا اور پولیسں عملہ کی کیا ذمہ داریاں ہوں گی ان تمام باتوں کی گائیڈ لائن قبل از وقت تیار کرکے متعلقہ ڈپارٹمنٹ کو ہدایات دے کر الرٹ کردیا گیا تھا ۔
اس طرح کی معلومات چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جیونت دھلے نے نمائندے کو دیتے ہوئے مزید بتایا کہ جب انھیں بھیونڈی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری دی گئی تو مین پاور یعنی اسٹاپ بہت کم تھا دہائیوں سے اس کمی کی وجہ سے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ تنقید وتنقیص کا نشانہ بنا رہا تھا بھیونڈی شہر میں روٹین ایمونائزیشن یعنی ٹیکہ کرن صرف 56 فیصد ہی تھا مگر گزشتہ ایک برس میں اسے بہتر فیصد پر اور مشن اندر دھنس کے اندر ٹیکہ کرن کے ٹارگٹ کو پورا کرتے ہوئے اٹھانوے فیصد تک لایا گیا
ڈاکٹر جیونت دھلے نے بتایا کہ چونکہ میں بھیونڈی شہر سے ہوں اور گزشتہ تقریبا 15 برسوں سے میں میڈیکل افیسر کے طورپر بھیونڈی میں کام کرتا آیا ہوں کمی کیا تھی اور بھیونڈی شہر کی عوام کا سپورٹ ڈپارٹمنٹ کو کیوں نہیں مل رہا تھا اسے کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے یہ مجھے سمجھ میں آرہا تھا مگر اس وقت یہ کام میرے ہاتھ میں نہیں تھا اور مجھے محسوس ہورہا تھا کہ میڈیکل آفیسروں کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا تھا اور نا ہی ان کے مشورے سنے جارہے تھے ۔انھیں سب باتوں کے مد نظر مجھے یہ ذمہ داری دی گئی اور میں نے سب کو جوڑ کر شہریوں سے تعاون لینے کارپوریٹروں کو پروگرام کی معلومات دیتے ہوئے شروعات کی مجھے مقامی ہونے کا بھی سپورٹ ملا دوسری طرف مین پاور کی کمی تھی میڈیکل آفیسر کم تھے سینٹر بھی کم تھے ڈاکٹروں کی کمی تھی سبھی پوسٹ بھری گئی نرسس اور سسٹروں کی تعداد بھی تقریبا دوگنی ہوگئی ہر آروگیہ کیندر پر میڈیکل افیسرو کو پوسٹیڈ کیا گیا اور گزشتہ کئی برسوں میں جو کام نہیں ہوسکا تھا وہ کام کرتےہوئے سینٹروں پر اوپی ڈی شروع کی گئی اور ٹائم کی پابندی پر زور دیا گیا ۔ کمیونٹی سے تعاون ملے اس کے لئے کمیونٹی ممبر آشا کے نام سے بھرتی کئے گئے اس میں گورنمنٹ سے سپورٹ لیا گیا۔ خستہ حال آروگیہ کیندروں پر سسٹرس رہنے کو تیار نہیں تھے ان کی جانوں کو خطرہ تھا کہ کہیں گر نا جائے ان سبھی پندرہ ہیلتھ سینٹروں کو درست کرایا گیا سینٹروں کے اندر کی ضروریات پانی ۔لائٹ ۔کرسی ۔ٹیبل سنڈاس وغیرہ درست کراتے ہوئے رنگ و روغن بھی کرائے گئے ۔ان سبھی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ سروسیز کو اچھی بنانے کی طرف دھیان دیا گیا اور ڈاکٹروں نے رزلٹ بھی دیا ۔آج نا صرف اوپی ڈی سروس دی جارہی ہے بلکہ اے این سی رجسٹریشن بھی کافی بڑھا ہے ٹیکہ کرن بڑھا ہے ٹی بی کا ڈٹیکشن بڑھا ہے ۔اس وقت ہماری پوری توجہ کرونا وائرس سے اپنے شہر کو بچانے پر لگی ہے اور اب تک ہم اس میں کامیاب ہیں کہ چاروں طرف کروناکا زبردست حملہ جاری ہے مگر بھیونڈی شہر میں صرف تین ہیں اور یہ تینوں کو بھی ٹراویل ہسٹری کی بنیاد پر کرونا وائرس ملا ہے تقریبا تین ہزار لوگوں تک ان کی ٹراویل ہسٹری کی بنیاد پر پہنچ کر ابتدائی چیک اپ کیا گیا اور بھیونڈی میں چاروں طرف خاص طور پر ہائی رسک علاقوں میں پانچ نئے سینٹرس بھی عارضی طور پر قائم کئے گئے تاکہ لوگوں کو چیک اپ کے لئے یہاں آنے میں آسانی ہو یہ سینٹرس صرف کرونا وائرس کی تفتیش کے لئے قائم کئے گئے ہیں ۔ ڈاکٹر جیونت دھلے کہتے ہیں ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی ان تمام تر کوششوں کے باوجود میرا ماننا ہے کہ کوئی بھی پبلک سروسیز پبلک تعاون کے بغیر کمپلیٹ نہیں ہوسکتی اس لئے اہلیان بھیونڈی سے میں اپنے شہر کے اپنوں سے درخواست کرتا ہوں جہاں ہمیں آپ کی ضرورت پڑے آپ اپنا مورل سپورٹ تھوڑا وقت ہماری ٹیم کو دیں لاک ڈاون کی پابندی کے ساتھ ہاتھوں کو صابن سے بار بار دھوئیں ۔ سردی کھانسی بخار کا عارضہ ہو تو فورا چیک اپ کرائیں وائرس کی تصدیق کے بعد نرسس سروے کرتی ہیں کہ کہیں کسی اور کو تو ایسی تکلیف نہیں ہے صرف یہی مقصد ہے سروے میں ان کا تعاون کریں انھیں معلومات دیں اس میں ہماری اور پورے شہر کی کامیابی ہے ۔آپ کا تعاون اور ہماری پوری ٹیم پوری طرح ہیلتھ سروسیز کے لئے کرونا کے روک تھا کے لئے تیار ہے اسی ٹیم اور آپ کے سپورٹ نے پہلے چیچک ۔ٹیٹنس ۔اور پولیو کا خاتمہ کیا ہے اور اب ہم کرونا وائرس کا خاتمہ کرنے میں بھی ضرور کامیاب ہوں گے انشاءاللہ ۔