کارپوریٹروں پر کاروائی کرنے میں کارپوریشن انتظامیہ کی ٹال مٹول
بھیونڈی (شارف انصاری):- سال 2017 میں بھیونڈی نظام پور شہر مہانگر پالیکا کے عام انتخابات میں منتخب ہوکر آئے بہت سے کارپوریٹروں کی جانب سے انتخاب میں امیدواری کے وقت ریاست الیکشن کمیشن کو پیش کئے گئے ایفیڈیوٹ کے مطابق مقررہ وقت میں اپنے تمام کاغذات پیش نہ کرنے سے کانگریس، شیوسینا، بی جے پی، کونارک وکاس اگاڑی کے 18 کارپوریٹروں کا عہدہ پر اب منسوخی کے بادل منڈلانے لگے ہے ۔ جس میں 9 کارپوریٹروں کی سماعت میونسپل کمشنر منوہر ہیرے کے پاس زیر التواء ہے ۔اس تناظر میں ریاستی حکومت کی طرف سے متعلقہ کارپوریٹروں کی معلومات میونسپل کمشنر سے طلب کی گئی ہے ۔ جس سے سیاسی جماعتوں میں بوکھلاہٹ کا ماحول ہے ۔واضح ہو کے سال 2017 میں بھیونڈی نظام پور شہر مہانگر پالیکا کے عام انتخاب اختتام پذیر ہوئے تھے ۔ جس میں 45 پربھاگ میں سے 90 کارپوریٹروں منتخب ہو کر کارپوریشن میں عوامی نمائندگی کے لئے پہنچے تھے جس میں سے کئی کارپوریٹروں نے اس وقت انتخابی افسر کو اپنے نامکمل کاغذات دے کر الیکشن افسر کے سامنے ایفیڈیوٹ دے کر 6 ماہ کے اندر مکمل کاغذات دینے کا عہد کیا تھا ۔ ذرائع سےملی معلومات کے مطابق کئی کارپوریٹروں نے انتخاب کے چھ ماہ کا وقت گزر جانے کے بعد بھی متعلقہ کاغذات اب تک پیش نہیں کئے ہے۔ اس تناظر میں اس وقت کے میونسپل کمشنر ڈاکٹر یوگیش مہسے کے پاس منتخب ہوکرآئے کارپوریٹروں کے خلاف انتخاب لڑنے والے مخالف امیدواروں نے کئی طرح کی شکایات کی تھی ۔جس کے مطابق بہت سے کارپوریٹروں کے خلاف غیر قانونی تعمیراتی کام کو تحفظ دینے، غیر قانونی تعمیراتی کام میں شامل ہونے، مجرمانہ ریکارڈ میں ہونے کے باوجود اس کی معلومات نہ دینے، اصولوں کے مطابق دو سے زیادہ بچے ہونے جیسی سنگین شکایات کا اندراج ہیں ۔ بہت سے کارپوریٹروں نے کارپوریشن میں ذات سرٹیفکیٹ کا صداقت نامہ تک داخل نہیں کیا ہے ۔ان شکایات پر اس وقت کے کمشنر ڈاکٹر یوگیش مہسے نے 18 کارپوریٹروں کی سماعت کی تھی ۔جس میں سے 9 کارپوریٹروں کی اب بھی سماعت التوا میں ہے ۔اسی درمیان ڈاکٹر یوگیش مہسے کی بدلی ہو گئی ۔اس کی وجہ سے اگلی سماعت روک دی گئی تھی۔ پربھاگ نمبر 7 میں منتخب ہوکر کے آئی ساجدہ بانو استياق مومن کے خلاف الیکشن لڑنے والے سابق کارپوریٹر انیس مومن نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عدالت کو یہ بتایا کہ انہوں نے غلط معلومات دے کر الیکشن لڑا ہے۔ درخواست گزار کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ساجدہ بانو کا کارپوریٹر عہدہ منسوخ کرنے کے تناظر میں پیشگی کارروائی کیلئے میونسپل کمشنر منوہر ہیرے کے پاس ہدایات بھیج دی ہے۔ اس معاملے میں سماعت کرنے کے بعد میونسپل کمشنر نے اپنی رپورٹ تیار کر لی ہے ۔ کارپوریٹروں کی مخالفت میں آئی ہوئے سنگین شکایات سے یہ لگ رہا ہے کہ بہت سے کارپوریٹروں کا عہدہ خطرے میں ہے۔ ان زیر التواء سماعت والے سبھی 18 کارپوریٹروں میں سے 9 کارپوریٹروں کے معاملے کی سماعت سابق میونسپل کمشنر ڈاکٹر یوگیش مہسے کر چکے ہے بقیہ 9 کارپوریٹروں کی شکایات کی سماعت ابھی زیر التوا ہے ۔ جس کے باعث شکایات کنندہ انصاف سے محروم ہو کر برہمی کا اظہار کر رہے ہے ۔حکومت کی ہدایات کے بعد میونسپل کمشنر منوہر ہیرے باقی کارپوریٹروں کی خفیہ تحقیقات شروع کی ہے ۔ اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ ان 18 کارپوریٹروں کا عہدہ خطرے میں ہیں ۔یہ بھنک لگتے ہی اپنے عہدے کو بچانے کے لئے بی جے پی، کونارک وکاس اگھاڑی، کانگریس، شیوسینا سمیت دیگر جماعتوں کے کارپوریٹروں نے دوڑ بھاگ لگانا تیز کر دیا ہے۔ میونسپل کمشنر پر کارروائی نہ کرنے کا دباؤ بنانے کے لئے وزراء، رہنما اور رکن اسمبلی کے دربار میں حاضری لگانی شروع کر دی ہے ۔