بھیونڈی شہر ایک سال سے خالی پڑا ہے کیفو کا پوسٹ، سال بھر سے نہیں چیک ہوئی کوئی فائل

بھیونڈی ( شارف انصاری):- بھیونڈی کارپوریشن حکومتی انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہے ۔ ڈپٹی کمشنر، شہر انجینئر، ایجوکیشن افسران افسران اور پربھاگ افسران جیسا اہم عہدہ کا انچارج کے حوالے ہے اس وجہ نہ صرف کارپوریشن کا کام کاج متاثر ہورہا ہے بلکہ بدعنوانی بھی بڑھ رہی ہے۔ کمشنر کے بار بار مطالبہ کے باوجود حکومت کی طرف سے افسران نہیں بھیجے جا رہے ہے ۔ اس وجہ سے کارپوریشن کی حالت رام بھروسے چل رہی ہے ۔

واضح ہو کے بھیونڈی کارپوریشن کا کئی اہم عہدہ انچارج کے حوالے ہے ۔ پچھلے مارچ 2018 سے کارپوریشن میں كیفو نہیں ہے ۔اس وجہ سے محکمہ جاتی ایڈٹ نہیں ہوورہا ہے ۔ یہاں تک ایک سال سے فائلیں تک نہیں چیک ہوئی ہے ۔ اس عہدے کا چارج کارپوریشن کے اکاؤنٹنٹ جادھو کے پاس ہے اسی طرح گزشتہ 10 سال سے کارپوریشن میں ایجوکیشن افسر نہیں ہے ۔ مذکورہ محکمہ انتظامیہ افسر کی نگرانی میں چل رہا ہے ۔ کارپوریشن میں شہر انجینئر نہیں ہے ۔جس کا عہدہ پانی کی فراہمی محکمہ کے انجینئر لکشمن گائیکواڑ سنبھال رہے ہے ۔اسی طرح دو ڈپٹی کمشنر کا عہدہ خالی پڑا ہے ۔ میونسپل کمشنر منوہر ہیرے نے اسسٹنٹ کمشنر وندنا گلوے کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بنا کر کام چلا رہے ہے ۔اسی طرح کارپوریشن میں تنصیب انچارج کا عہدہ خالی ہے ۔ وبھاگ سربراہ کا عہدہ خالی ہے۔ جس کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر کے حوالے ہے کارپوریشن کا شہر سیکرٹری بھی انچارج کے حوالے ہے ۔ اس کے علاوہ پانچوں پربھاگوں پر صفائی ملازمین یا کلرک کو پرموشن دے کر ایڈیشنل چارج دے کر کام چلایا جا رہا ہے ۔ سب ملاکر کارپوریشن کا تمام اہم عہدےلہ ان دنوں خالی ہے اور کارپوریشن انچارج کی نگرانی میں چل رہا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے قابلیت نہ ہونے کی وجہ سے ناقابل و نا اہل افسران کوئی بھی فیصلہ خود نہیں لے پا رہے ہے ۔ اس وجہ سے کارپوریشن انتظامیہ رام بھروسے چل رہی ہے ۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہے کہ افسران کی کمی سے کارپوریشن کے ترقیاتی کاموں میں رخنہ پیدا ہو رہا ہے ۔جبکہ بدعنوانی بڑھ رہی ہے ۔

اس تناظر میں میونسپل کمشنر منوہر ہیرے کا کہنا ہے کہ کئی بار انہوں نے حکومت کو خط دے کر کارپوریشن صدر دفتر اور پربھاگ سمیتیوں میں خالی عہدوں پر قابل افسران بھیجنے کا مطالبہ كيا ہے ۔ لیکن حکومت کی طرف سے اس پر توجہہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ اس وجہ سے یہاں پر سبھی اہم عہدے خالی پڑے ہے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی افسر بھیونڈی آکر کام نہیں کرنا چاہتا ہے ۔ بتا دیں کہ پہلے دو پربھاگ افسر حکومت کی طرف سے آئے تھے لیکن انھوں نے یہاں کا کام کاج دیکھ کر وہ خود یہاں سے تبادلہ کراکر دوسری جگہوں پر چلے گئے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading