بھیونڈی ایم آئی ایم کے صدر خالد گڈو نے بڑے جانور کی قربانی کی اجازت کی مانگ کی،علامتی قربانی کی ہدایت پر اٹھائے سوال

MIMبھیونڈی ( ایس اے ):- کورونا وائرس کے سبب پھیلی ہوئی تباہی کے اثرات نہ صرف صحت اوراقتصادیات پر پڑے ہیں بلکہ اب مذہبی تہوار بھی اس کی زد میں آگئے ہیں عید الفطر کے روکھے پن کی کڑوی یادیں ابھی ماند بھی نہ پڑی تھی کہ ریاستی حکومت کی جانب سے عید الضحی میں بڑے جانور کی قربانی پر عائد پابندی کے سبب مسلم معاشرہ میں غم اور غصہ کی لہر دوڑ پڑی ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے تناظر میں سوشل ڈسٹنسینگ کے حوالے سے یہ رہنما ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ بڑے کے جانور کی قربانی پر پابندی رہیگی اور بکرے کی قربانی انفرادی ذمہ داری کے تحت کی جاسکتی ہے

مزید یہ کہ حکومت نے کہا کہ مسلمان علامتی طور پر قربانی ادا کریں اور کورونا وائرس کے پھیلانے کے موجب نہ بنیں۔اس پر ایم آئی ایم بھیونڈی کے صدر خالد گڈو نے زون ۲ کے ڈی سی پی کے نام ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے لکھا کہ اسلام میں علامتی قربانی کا تصور موجود نہیں ہے،احادیث اور سیرت سے یہ بات ثابت ہوتی ہیکہ قربانی میں خون کا بہانہ مطلوب ہے۔اسلیے اہل اسلام علامتی قربانی نہ کرتے ہوئے سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے صفائی کا بہتر اور منظم انتظام کرکے بڑے کے جانور کی قربانی کے لیے تیار ہے۔

خالد گڈو نے کہا کہ چونکہ امسال کورونا کے پھیلنے کا خدشہ ہے اسلیے اہل اسلام بذات خود اپنے طور پر صفائی کا انتظام کریں گے اور جانور کی گندگی وغیرہ کو ۴ فٹ گڈھا کھود کر دفن کر دینگے، ماسک اور احتیاطی تدابیر کا پور ا استعمال کیا جائیگا،چنانچہ ان شرائط کے ساتھ بڑے کے جانور کی قربانی کی اجازت دی جائے، انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی اس مبہم گائدلائین کی بنیاد پر بھیونڈی کے میونسپل کمنشر نے گزشتہ دنوں بڑے کے جانور کی قربانی نہیں کرنے کا ذبانی اعلان کردیا، جبکہ اس بات کے اعلان کا ختیار قانونی طور پر انہیں حاصل نہیں ہے،جس کی وجہ سے بھیونڈی شہر میں انتظامیہ کے خلاف زبردست غم اور غصہ کا ماحول ہے، اسلیے اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے بڑے کے جانور کے قربانی کی اجازت دی جائے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading