مسلم ریزرویشن فیڈریشن بھیونڈی صدر طفیل فاروقی نے کی الیکشن کمیشن سے رمضان ماہ سے پہلے یا بعد میں ووٹنگ کرانے کی اپیل
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- لوک سبھا انتخابات کے لیے ہندوستانی الیکشن کمیشن کی طرف سے مقرر شدہ پروگرام میں چار مرحلے ایسے ہیں ۔ جن کے ووٹنگ کی تاریخ رمضان المبارک کے دوران آ رہے ہیں ۔ اس دوران انتخابات کو لے کر مسلم سماج پس و پیش کی حالت میں ہے ۔ سماج کے اندر سے ابتدائی طور پر ردعمل ابھر رہے ہیں کہ رمضان المبارک کے چلتے مسلم ووٹروں کو ووٹ ڈالنے میں پریشانی ہوگی ۔
وہیں اس ضمن میں مسلم ریزرویشن فیڈریشن بھیونڈی صدر اور بھیونڈی اقلیتی محکمہ کانگریس کے صدر طفیل فاروقی نے الیکشن کمیشن سے مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھنے اور انتخابات کی تاریخ رمضان ماہ سے پہلے یا بعد میں کرنے کی اپیل کی ہے ۔ طفیل فاروقی کا کہنا ہے کہ انتخابات کے وقت مسلمانوں کا روزہ ہوگا۔ اس بات پر الیکشن کمشنر کو توجہ دینا چاہئے تھی ۔الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے ۔ اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن ملک بھر میں7 مراحل میں ہونے والے انتخابات کے دوران بہار، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور مغربی بنگال کے لوگوں کے لئے مشکلات پیش آئے گی۔ یہ ان لوگوں کے لئے سب سے زیادہ مشکل ہو جائے گا جن کا اس وقت رمضان چل رہا ہو گا ۔ انہوں نے کہا ان چار ریاستوں میں اقلیتی آبادی بہت زیادہ ہے ۔ وہ روزہ رکھ کر ووٹ ڈالے گیں ۔ الیکشن کمیشن کو اس بات کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے ۔ مسلم ووٹروں کو ووٹ ڈالنے میں پریشانی ہوگی ۔ وہیں مسلم ریزرویشن فیڈریشن کے صدر طفیل فاروقی نے الزام لگایا کہ بی جے پی تو یہی چاہتی ہے کہ اقلیتی فرقہ اپنا ووٹ نہ ڈالیں ۔ ہم اس سے فکر مند نہیں ہیں ۔ لیکن الیکشن کمیشن کو اس طرح کے الزام سے بچنا چاہیے ۔ کہ وہ بی جے پی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر کام کر رہا ہے ۔ لوگ بی جے پی ہٹاؤ ۔ ملک بچاو کو لے کر مصروف عمل ہیں ۔