بھیونڈی:طلاق ثلاثہ قانون مسلمانوں کے شرعی قوانین میں براہ راست مداخلت : شریش ٹاورے

بھیونڈی ( شارف انصاری ) :- ملک گیر سطح پر لاکھوں مسلم خواتین کے باضابطہ احتجاج اور طلاق ثلاثہ قانون کی مخالفت کے باوجودمرکز کی مودی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی سے ایسے سیاہ قانون کو حتمی شکل دے دی ہے جو نہ صرف مسلمانوں کے شرعی قوانین میں براہ راست مداخلت ہے ۔ بلکہ پوری طرح مردوں کے خلاف ہےاور مسلمانوں کی ازدواجی زندگی میں منافرت اور اختلافات کو بڑھاوا دینے والا ہے ۔
اس ضمن میں بھیونڈی کے سابق کانگریسی رکن پارلیمان اور 2019 میں ہونے والے پارلیمانی الیکشن کے لئے کانگریس کے سب سے مضبوط دعوے دار جناب سریش کاشی ناتھ ٹاورے نے نمائندے سے گفتگو کر تے ہوئے بتایا کہ تین طلاق قانون کا مجوزہ بل جب لوک سبھا میں آیاتو پورے ملک کے ہر شہر اور ہر ایک قصبہ میں اس کی بھر پور مذمت ہوئی ۔ جبکہ ملک بھر میں برقعہ پوش مسلم خواتین نے لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوکر احتجاجی جلوس میں حصہ لیا اور کروڑوں خواتین کی دستخط سے اس کی مخالفت میں میمورنڈم دے کر مجوزہ قانون کی شدید مخالفت کی گئی ۔ لیکن مرکز کی ضدی مودی سرکار نے تمام اختلافات اور احتجاج کے باوجود تین طلا ق کے قانون کو لوک سبھا میں منظوری دے دی ۔اور اس طرح مسلم مرد وخواتین کی ازدواجی زندگی میں زہر گھولنے کا کام کیا ۔
سابق رکن پارلیمان سریش ٹاورے نے اس سلسلے میں مزید بتایا کہ گزشتہ دنوں دہلی میں منعقدہ کانگریس کی قومی اقلیتی کنونشن میں متفقہ طور پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اس بار مرکز میں کانگریس کی حکومت کے اقتدارمیں آتے ہی طلاق ثلاثہ قانون کوختم کر دیا جائے گا ۔ کانگریس کے قومی صدر شری راہل گاندھی اور کل ہند اقلیتی شعبہ کے سربراہ ندیم جاوید کی موجودگی میں کانگریسی خواتین ونگ کی صدر سشمتا دیوی نے اعلان کیا ہے کہ مرکز میں کانگریس پارٹی کی حکومت آنے پرطلاق ثلاثہ کے نام پر مسلمانوں کو پھنسانے کے لئے بنائے گئے سیاہ قانون کو ختم کر دیا جائے گا ۔
مودی حکومت نے اس قانون کے ذریعےایسا کھیل کھیلا ہے کہ مسلم مرد پولس اسٹیشن کے چکر لگاتا رہے اورجیل کی ہوا کھاتا رہے ۔ جبکہ مسلم عورت بیچاری دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجائے ۔ سابق ایم پی سریش ٹاورے نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ مرکز میں کانگریس حکومت کی آمد کا یہ پہلا ٹھوس اور مستحسن قدم ہوگاجس دن طلاق ثلاثہ قانون کا خاتمہ ہوگا ۔ اس سیاہ قانون کو لے کر مسلم مرد وخواتین میں آج بھی شدید ناراضگی اور اضطراب موجود ہے اور ان کا یہ کہنا ہے کہ طلاق ثلاثہ کایہ قانون شریعت میں سراسر مداخلت ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہو ئے ہیں اسی لیے اس کی ہر سمت سے مخالفت ہو رہی ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading