بھیونڈی:خسرہ، ایچ آئی وی، جلد کی بیماریوں جیسے مہلک مرض کا خطرہ لاحق

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کارپوریشن علاقے میں نالہ صفائی کر رہے مزدوروں کے ساتھ عجیب و غریب کارنامہ بھیونڈی کارپوریشن انتظامیہ کی طرف سے کیا جا رہا ہے ۔ انسانی حقوق و قوائد کو طاق پر رکھ کر بھیونڈی کارپوریشن کے سبھی پربھاگ افسران کے ذریعہ کچڑا صفائی ملازمین سے نالہ صاف کروایا جا رہا ہے۔ میونسپل انتظامیہ اپنے منافع کے لئے مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی برتتے ہوئے ایسا کام کر رہی ہے۔ ان نالوں کو صاف کرنے کے لئے ضروری سہولیات اور سامان فراہم نہیں کیے گئے ہیں ۔صفائی ملازمین کے ہاتھوں میں دستانے اور پیروں میں لامبوٹ ( لمبے جوتے) تک نہیں دیا گیا ہے۔ صفائی ملازمین کے ذریعہ نیم برہنہ حالت میں نالے میں اتر کر نالہ صفائی کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ بتا دیں پرائیویٹ ہسپتالوں اور دواخانوں سے نکلنے والے کچڑے بھی اسی نالوں میں ڈمپ کر دیا جاتا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے ان صفائی مزدوروں میں خسرہ، ایچ آئی وی اور جلد کی بیماریوں کے ہونے کا خدشہ اور قوی امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔وہی پر کمشنر نے دعوی کیا ہے کہ بارش سے پہلے اس سال نالاصفائی کا کام مکمل ہوجائیگا ۔

واضح ہو کے بھیونڈی کارپوریشن میں گذشتہ سال تین بار گٹر اور نالوں کی صفائی کا ٹینڈر نکلا گیا تھا۔ لیکن ٹھیکیدار نہیں ملے ۔پچھلے سال کارپوریشن انتظامیہ نے خود دہاڑی مزدور لگا کر گٹر اور نالوں کی صفائی کا کام شروع کرایا تھا ۔ اس طرح اس سال بھی میونسپل کمشنر کے ذریعہ پچھلے سال کا طریقہ اپناتے ہوئے خود سے صفائی کے کام شروع کیا گیا ہے ۔ میونسپل کارپوریشن نے دہاڑی مزدوروں کو روزانہ کی مزدوری دے کر صفائی شروع کرادی ہے ۔

ذرائع کے مطابق کارپوریشن کے پانچوں پربھاگ میں 87 نالالے موجود ہیں۔ ان کی لمبائی 42 ہزار 930 میٹر ہے ۔صفائی کے مزدوروں کو روزانہ 606 روپئے اجرت دی جارہی ہے ۔ لیکن اس بار بھی کئی بیدار شہریوں نے کارپوریشن انتظامیہ پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صفائی کے دوران گٹر اور نالوں سے نکلنے والا کچڑا و فضلہ عوام کے لئے پریشانی کا سبب بن گیا ہے ۔ صفائی کے بعد گٹر سے نکلنے والا کچڑا سڑک پر چھوڑ دیا جا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے کچڑوں سے نکلنے والا تعفن و دم گھونٹتی بدبو سے جہاں لوگ حیران و پریشان ہے ۔ وہی بدبودار کچڑا پوری سڑک پر پھیل جا رہا ہے ۔

جسے کارپوریشن کی طرف سے نہ ہٹائے جانے سے آمدو رفت و گزرنے میں راہ گیروں کا برا حال ہو رہا ہے ۔ قائدہ قانون کو طاق پر رکھ کر کئے جارہے کام کو محکمہ صحت کے ذریعہ پوری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔ شکایت کے باوجود کارپوریشن کے متعلقہ محکمہ اسے ہٹانے کی زحمت نہیں اٹھا پارہا ہے ۔ اتنا ہی نہیں ایک دو دن میں جب کچڑا سوکھ جاتا ہے تو راہگیروں کے پاؤں سے مذکورہ کچڑا پوری سڑک پر پھیل جا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے کارپوریشن انتظامیہ کی کارگردگی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading