بھیونڈی ( شارف انصاری ):- شہر میں ہورہی بجلی چوری پر قدغن لگانے کے لئے بھیونڈی کی بجلی سپلائی فرینچائزی ٹورینٹ پاور نے اپنی سخت کارروائی کو جاری رکھا ہے۔شہر کے متعدد علاقوں میں ٹورینٹ پاور کی ویجلینس ٹیم کے افسران نے اب باقائدگی سے روزانہ جانچ شروع کردی ہے۔
بھیوندی کے فنڈولے نگرمیں ٹورینٹ پاور کی ویجلنس ٹیم نے اپنے سائٹ کی جانچ کے دوران ایک نوجوان کوٹورینٹ پاور کے منی سیکشن پِلر میں سے جانے والے ٹورینٹ پاور کے کیبل کو کاٹ کر اس میں سے غیر قانونی بجلی کنیکش کے لئے ایک کیبل جوڑتے ہوئے پایا۔ انہوں نے پہلے اس کی ویڈیو گرافی کی اور پھر اس سے پوچھ تاچھ کی تب اس نے اپنا نام قیس عبدالقدوس مومن بتایا۔ بجلی کے غیر قانونی کیبل جوڑنے کے تعقل سے جب اس سے پوچھ تاچھ کی گئی تب اس نے الٹے سیدھے اور غیر اطمینان بخش جواب دے کر وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی تب ٹورینٹ کے افسران نے اسے پکڑ کر شانتی نگر پولس اسٹیشن لے گئے اور اس کے خلاف تعزیری دفعہ 336,427؍ اور بجلی قانون کی دفعہ 138 کے تحت کیس درج کرایا۔ شانتی نگر پولس نے05-03-2019 ملزم قیس عبدالقدوس مومن کو حراست میں لے کر تھانہ کی سیشن کورٹ میں پیش کیا جہاں عدالت نے اسے 19-03-2019 تک عدالتی کسٹڈی میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔
وہیں بجلی چوری کے دوسرے معاملے میں بھیونڈی کے ناگاؤں میں واقع ساگر پلازہ میں رہنے والے نوید انصاری نامی شخص نے منی سیکشن پلر سے چھیڑ چھاڑ کرکے غیر قانونی بجلی کنیکشن کو جوڑ کو بجلی چوری کے معاملے میں ملوث پایا گیا ۔ ٹورینٹ پاور کے افسران نے نوید انصاری کو اس سے قبل بھی بجلی چوری کے معاملے میں پکڑا تھا۔ اس پر تقریباََ 4.96 لاکھ روپئے بجلی چوری کی رقم بقایا تھی۔ ٹورینٹ پاور کی شکایت پر شانتی نگر پولس نے نوید انصاری کے خلاف تعزیری دفعہ 336,427؍ اور بجلی قانون کی دفعہ 138 کے تحت کیس درج درج کرکے اسے 11-03-2019 کو حراست میں لے کر تھانہ کی سیشن کورٹ میں پیش کیا جہاں عدالت نے ملزم نوید انصاری کو 22-03-2019تک عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ بجلی چوری کے معاملوں میں دونوں ملزمین جیل بھیج دئے گئے ہیں۔