بھیونڈی ( نامہ نگار):- کلکٹر آف اسٹیمپ( دیہی) تھانے کے ذریعے جاری کئے گئے حکمنامے میں ٹورینٹ پاور اور مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹری سٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹیڈ(MSEDCL )کے درمیان ہوئے بجلی سپلائی فرینچائزی ایگریمنٹ اور اس کی تجدید ایگریمنٹ کو ورک کانٹریکٹ میں شمار کرتے ہوئے متذکرہ دونوں ایگریمنٹ ( قرار نامہ) پر اسٹیمپ ڈیوٹی اور جرمانہ کی مانگ کی گئی تھی۔ اور اس کے تحت ٹورینٹ پاور کو اس رقم کی ادائیگی کا حکم دیا گیا تھا۔ مہاراشٹر اسٹیمپ قانون 1958 کے تحت دئے گئے کلکٹر آف اسٹیمپ تھانے دیہی کے اس حکمنامہ کو ٹورینٹ پاور نے ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ایک رٹ پٹیشن دائر کی، جس میں فرینچائزی ایگریمنٹ کو ورک کانٹریکٹ کے ضمن میں شمار کئے جانے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ نے ٹورینٹ پاور کی پٹیشن کو قبول کرلیا اور اسے عبوری راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف فوری طور پر کسی بھی قسم کی سخت کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔اس عبوری راحت کے لئے ٹورینٹ پاور نے کلکٹر آف اسٹیمپ تھانے ( دیہی) کے پاس 25,15000/- جمع کرنے پر رضامندی جتائی اور اس رقم کو ٹورینٹ پاور نے نے کلکٹر آف اسٹیمپ تھانے کے پاس جمع بھی کرادیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر رٹ پٹیشن کا فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو انہیں یہ رقم واپس مل جائے گی۔
ٹورینٹ پاور نے وضاحت کی ہے کہ میڈیا کے ذریعے ان کی رٹ پٹیشن خارج کر دئے جانے کی افواہ بے بنیاد ہے۔ کچھ مفاد پرست افراد میڈیا کے ذریعے ایسی بے بنیاد افواہیں پھیلاکر ٹورینٹ پاور کی شبیہہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔