قربانی اور کفایت شعاری کی شروعات نریندر مودی خود سے کریں: ورش ا گائیکواڑ

قربانی اور کفایت شعاری کی شروعات نریندر مودی خود سے کریں: ورشا گائیکواڑ

مودی حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی نہیں، اسی وجہ سے ملک بحران کا شکار

وزیر اعظم کے مشورے کے مطابق دیویندر فڑنویس اور ان کے وزراء بھی گاڑیوں کے قافلے چھوڑ کر میٹرو، بیسٹ اور لال پری بسوں میں سفر کریں

ممبئی: ممبئی کانگریس کی صدر اور رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخرکار وزیر اعظم نے یہ تسلیم کر ہی لیا ہے کہ ملک بحران سے دوچار ہے۔ دراصل یہ ان کی اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔ گزشتہ 12 برسوں سے نریندر مودی نے ملک کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے اور بی جے پی حکومت نے انتخابات، تشہیر اور نفرت کی سیاست کے علاوہ کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔

ورشا گائیکواڑ نے وزیر اعظم کے حالیہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات ہندوستان پر پڑنے والے ہیں، اس بات کا پہلے سے اندازہ ہونے کے باوجود مودی حکومت نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی، جس کا خمیازہ اب عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ نریندر مودی کی غلطیوں کا بوجھ آخر عوام کیوں برداشت کریں؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم خود 8 ہزار کروڑ روپے مالیت کے خصوصی طیارے میں سفر کرتے ہیں، مہنگی اشیا استعمال کرتے ہیں اور عوام کے پیسوں پر غیر ملکی دورے کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کم استعمال کریں، ایک سال تک سونا نہ خریدیں اور عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔

ورشا گائیکواڑ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ نریندر مودی اور ان کے وزراء کو سب سے پہلے خود کفایت شعاری اپنانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم واقعی اپنے مشوروں پر سنجیدہ ہیں تو وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو بھی گاڑیوں کے بڑے قافلوں کے بجائے ممبئی، پونے اور ناگپور میں میٹرو اور سٹی بسوں میں سفر کرنا چاہیے، جبکہ ریاست بھر میں لال پری یعنی ایس ٹی بسوں کے استعمال کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ایندھن کی بچت ہو سکے۔ دوسروں کو قربانی دینے کی اپیل کرنے کے ساتھ خود انہیں ملک کے لیے اتنی قربانی دینے میں آخر کیا حرج ہے؟۔ ورشا گائیکواڑ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کا مشورہ ایسا ہے جیسے ’’دوسروں کو نصیحت، خود میاں فصیحت۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ عوام کو ایندھن بچانے کا درس دینے کے صرف دو گھنٹے بعد خود نریندر مودی بڑی گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ سفر کرتے ہوئے نظر آئے۔

ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ مسلسل 12 برس اقتدار میں رہنے کے باوجود نریندر مودی ملک کو درپیش بحرانوں کے لیے کوئی مؤثر منصوبہ بندی نہیں کر سکے، جو ان کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں اور اب گیس اور ایندھن کے بحران نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل اب عیش و عشرت کی چیزیں نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ ورشا گائیکواڑ کے مطابق راہل گاندھی نے ایران جنگ کے دوران ہی ممکنہ بحران سے خبردار کیا تھا، لیکن مودی حکومت کی آمریت پسند پالیسیوں کی وجہ سے آج عوام کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

MRCC Urdu News 11 May 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading