نئی دہلی: مرکزی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی برآمد پر لگنے والے ونڈ فال ٹیکس میں بڑا اضافہ کیا ہے۔ حکومت نے پٹرول کی برآمد پر ٹیکس بڑھا کر 3.5 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی برآمد پر ٹیکس بڑھا کر 24 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ 3 اگست 2026 سے نافذ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ ٹیکس ملک کے اندر پٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ بیرون ملک برآمد کیے جانے والے ایندھن پر عائد کیا گیا ہے۔ حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں اور تیل کمپنیوں کے اضافی منافع پر نظر رکھتے ہوئے ونڈ فال ٹیکس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کرتی ہے۔
مرکزی حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد تیل کمپنیوں کو حاصل ہونے والے غیر معمولی منافع سے آمدنی حاصل کرنا اور ملک میں ایندھن کی فراہمی کو متوازن رکھنا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کا براہ راست اثر عام صارفین کے لیے پٹرول پمپ پر ملنے والے پٹرول اور ڈیزل کے ریٹ پر پڑے گا یا نہیں، یہ واضح نہیں ہے، کیونکہ یہ ٹیکس صرف برآمد کیے جانے والے ایندھن پر عائد کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر خام تیل کی عالمی قیمتیں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، مرکزی و ریاستی حکومتوں کے ٹیکس اور دیگر اخراجات جیسے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔