بڑی خبر: بی جے پی کو بڑا جھٹکا! ایک بڑے لیڈر نے استعفیٰ دیا

پونہ؛بھارتیہ جنتا پارٹی کو آج ایک بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پونہ والا نے ایک بار پھر پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ نامہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے بی جے پی صدر نتن نَبین سے اسے قبول کرنے کی درخواست کی ہے۔

شہزاد پونہ والا نے اپنے خط میں کہا کہ انہوں نے اس سے قبل 30 جولائی 2026 کو بھی پارٹی کے تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تھی۔ اس وقت پارٹی قیادت نے ان کا استعفیٰ فوری طور پر قبول نہیں کیا تھا اور انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کو کہا گیا تھا۔

تاہم پونہ والا کے مطابق، کافی غور و فکر کے بعد انہوں نے اب اپنا فیصلہ حتمی کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے بعض واقعات اور کچھ افراد سے متعلق معاملات نے انہیں اپنے پہلے فیصلے پر قائم رہنے پر مجبور کیا۔

مالی اور ذاتی وجوہات کا حوالہ

شہزاد پونہ والا نے استعفیٰ کی بنیادی وجہ فوری مالی اور ذاتی حالات کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب نجی شعبے میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے پارٹی چھوڑنے کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کی پالیسیوں سے اپنی وابستگی برقرار رکھنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے نریندر مودی، بی جے پی صدر نتن نَبین، وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور تنظیم کے جنرل سیکریٹری بی ایل سنتوش کا شکریہ بھی ادا کیا۔

پونہ والا نے اپنے خط میں واضح کیا کہ وہ پارٹی کی ’’ویوستھا‘‘ یعنی تنظیمی نظام سے الگ ہو رہے ہیں، نہ کہ کسی شخصیت یا نظریے سے۔ ان کے مطابق وہ مستقبل میں بھی جہاں ممکن ہوگا، وزیر اعظم مودی کے وژن اور بی جے پی کے کام کی حمایت کرتے رہیں گے۔

کیا بی جے پی استعفیٰ قبول کرے گی؟

فی الحال بی جے پی کی جانب سے ان کے استعفے پر حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ پونہ والا کا پہلا استعفیٰ پارٹی نے قبول نہیں کیا تھا، لیکن اب انہوں نے دوبارہ اپنا فیصلہ واضح کرتے ہوئے استعفیٰ قبول کرنے کی درخواست کی ہے۔

شہزاد پونہ والا 2021 کے آخر میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے اور گزشتہ چند برسوں میں پارٹی کے نمایاں ٹی وی اور میڈیا چہروں میں شمار ہونے لگے تھے۔ ان کے استعفے کی تازہ پیش رفت نے بی جے پی کے اندرونی سیاسی حالات اور تنظیمی معاملات کو لے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading