✍🏻محمد عارف (مالیگاؤں)
رمضان المبارک کا مہینہ ہمارے درمیان جَلوہ فِگن ہے چاروں طرف انوار و تجلّیات کی بارس جاری ہے گرمی اپنے شباب پر ہے اس ماہِ مقّدس میں جہاں دنیا بھر کے مسلمان نماز، قرآنِ مقّدس کی تلاوت، ذِکر اذکار اور دیگر نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا کرتے ہیں وہی اس مبارک مہینے میں نوجوان، بچّے موبائل فون پر گیمز، چیٹگ، واٹس اپ، فیس بُک، ٹوویٹر، ٹیلی گرام و دیگر اپلیکیشنز پر فضول بحث پر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے نظر آتے ہیں موبائل فون کا ظالمانہ استعمال ہمارے معاشرے میں ایک لعنت بن چکا ہے جہاں نظر ڈالئے بڑے اور بچّے سب اسے بے دردی سے استعمال کرتے ہیں اور اس میں گیمز، چیٹک وغیرہ میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے نظر آتے ہیں
اگر یہی وقت تعمیری اور فلاحی کاموں میں لگایا جائے تو اس سے قوم کا فائدہ ہوسکتا ہے بچّوں کا اسطرح گیمز کھیلنا جہاں دوسرے بہت سارے مضر اثرات کا باعث ہے وہی ان کی تعلیم وغیرہ کو بھی نمایاں طور پر متاثر کرتا ہے اسلئے اسکول کی چُھٹّیوں میں خاص طور پر بچّوں کو موبائل سے دور رکھیں نوجوان طبقہ کو تو موبائل نے گویا مکمل طور پر اپنا غلام بنا لیا ہے نوجوانوں کو مہنگے مہنگے موبائل خریدنے کی چاہت ہوتی ہے اور اس کے علاوہ نِت نئے versions انھیں اپنی جانب کھیچتے ہیں بعض نوجوان اس طرح موبائل میں مصروف رہتے ہیں کہ انھیں اِرد گِرد کی خبر ہی نہیں رہتی بعض اوقات موبائل فون حادثے کا سبب بھی بنتا ہے موبائل فون کے ذریعے سماج میں جُھوٹ کو بھی بہت فروغ ہوا ہے اور اسے عیب بھی نہیں سمجھا جاتا موبائل کے مُضِر اور مَنفی اثرات میں یہ بھی ہے اس سے نوجوان نسل فحش تصاویر نازیبا اور گندے میسیج وغیرہ کا چَلن حد سے ذیادہ بڑھ چکا ہے فحش ویڈیو، گندے ایس ایم ایس، گیت کے ذریعے خود کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرتے ہیں.
موبائل کی بیٹری پَھٹ جانے سے بعض اوقات حادثات پیش آتے ہیں موبائل کا ایک بہت اہم نقصان یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ وہ لوگوں کی بالمشافہ ملاقات میں کمی لارہا ہے واٹس ایپ نے چند الفاظ کے میسج تک ہی ہمیں محدود کردیا ہے اور لوگوں کے درمیان اُلفت و محّبت کی کمی واقع ہوگئی ہے یہ بات بھی سچ ہے کہ صرف فون پر گفتگو کرلینے سے انسان انسانی رشتوں کو ہلکا سمجھنے لگا ہے کیونکہ کسی کی خوشی یا غمی کے موقع پر اپنے متعلقین کے یہاں حاضر ہونے کا متبادل گھر بیٹھے فون کرلینے یا میسج کرنے کو سمجھنے لگا ہے آج ہمیں ہر قدم پر اس کی ضروت تو ہے لیکن ضروت اس بات کی بھی ہے کہ انسان ان اشیاء کا غلام بن کر نہ رہ جائیں بلکہ اسکا ضروت کے موقع پر ضرورت کی حد تک ہی استعمال کریں خاص طور پر اپنے بچّوں کو موبائل کے بیجا استعمال سے بچائیں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں منفی اور مثبت ہمیں کیا چُننا ہے یہ ہمیں طئے کرنا ہے .