سال 2010 کی ابتداء میں چند سنٹ Cents قیمت والی اس جادوئی کرنسی نے 2017 کے آخر تک حیرت انگیز طور پر 6000 فیصد تک کا منافع دیا تھا اور 20 ہزار ڈالر پر فروخت ہورہی تھی جو کہ شیئر مارکیٹ کی دنیا میں ایک ناممکن بات ہے
نئی دہلی: 8 ڈسمبر. (ورق تازہ نیوز) ہندوستان سمیت دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوتی ڈجیٹل کرنسی بٹ کوائن کے شیئرز کی مالیت میں 75 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے . گزشتہ ڈسمبر2017 ہی میں اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے والی ڈجیٹل کرنسی کی مالیت 3500 ڈالرز سے بھی نیچے آ گئی ہے۔جوکہ سال 2018 کی اب تک کی اقل ترین قیمت ہے.

غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن کے شیئر کی مالیت 3362.89 ڈالرز پر ریکارڈ کی گئی جو یکم جنوری کے بعد ڈجیٹل کرنسی میں تقریباً 75 فیصد کمی ہے۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن کرنسی کے شیئر کی مالیت گزشتہ برس 18 دسمبر کو اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی تھی۔
واضح ہوکہ ہندوستانی حکومت بٹ کوائن کو قانونی زر مبادلہ کرنسی نہیں مانتی ہے. حکومت کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیا جاچکا ہے. جہاں شنوائی چل رہی ہے. حکومت نے کرپٹو کرنسی کے چلن کو ملک میں کم کرنے کیلئے آر بی آئی کے توسط سے تمام بینکوں کو بٹ کوائن یا کسی اور کرپٹو کرنسی لین دین میں اپنی خدمات دینے پر پابندی عائد کردی ہے. جس کے بعد گزشتہ ستمبر میں ہندوستانی کرپٹو بازار میں بھی بٹ کوائن بہت کم قیمت میں فروخت کیا گیا تھا.
دیگر ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی کے آج بتاریخ 8 ڈسمبر 10:30 بجے تک کی قیمتیں.

بٹ کوائن کرنسی کی سائنس: کیا اس میں انویسٹمنٹ کرنی چاہیے؟
اسٹاک مارکیٹ کے ایک سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ہی اس بات کے واضح امکانات تھے کہ بٹ کوائن کرنسی کی قیمت میں گراوٹ آئے گی جو اُن لوگوں کے لیے بہت ہی بری خبر ہو گی جو یہ سوچ رہے تھے کہ اس طریقے سے وہ بہت آسانی سے پیسہ بنا سکتے ہیں۔
بٹ کوائن کی مالیت گزشتہ برس دسمبر کے آخری ہفتے میں 20 ہزار ڈالر تک پہنچی تھی اور اس حوالے سے خدشات سے قبل 2017 میں اس کی قیمت میں 25 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
ایک اور معاشی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ بڑی کرپٹو کرنسیز کی مالیت میں آنے والی گراوٹ کو جنوبی کوریا کی جانب سے اس پر پابندی سے جوڑا جا سکتا ہے۔