بنیادی وکاس سماج سیوی سنستھا دہلی کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں مسلم و غیر مسلم دانشوروں نے اردو کی اہمیت، عظمت اور ضرورت پر خطاب کیا

  • بنیادی وکاس سماج سیوی سنستھا نے حضرت امیر خسرو کو یاد کیا

  • مسلم و غیر مسلم دانشوروں نے اردو کی اہمیت، عظمت اور ضرورت پر خطاب کیا

بتاریخ ۳؍ مارچ 2019 ، بنیادی وکاس سماج سیوی سنستھا رمیش پارک لچھمی نگر دہلی میں طوطی ہندحضرت امیر خسرو کے یوم پیدائش کی مناسبت سے جشن یوم اردو کے نام سے منعقد پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد الحنان قاسمی امام و خطیب بڑی مسجد رمیش پارک و نائب صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ تہذیب بھی ہے، آج معاشرے میں بد تہذیبی کا دور دورہ اسی وجہ سے ہے کہ ہم اردو سے دور ہوتے جارہے ہیں۔

تقریب کے مہمان خصوصی سابق ممبر اسمبلی اور AICC کےممبر جناب نصیب سنگھ نے کہا کہ اردو اس ملک کی زبان ہے اور اسی نے انقلاب زندہ باد کا نعرہ دیا،اور ملک کو آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو زبان سیاست کی شکار ہوگئی ہے اور اسے ہندو مسلم میں بانٹ دیا گیا ہے، انھوں نے اپنے دل کی بات شئر کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کے گرتے معیار کو دیکھتے ہوئے سیاست کرنے کو جی نہیں کرتا۔ مولانا جاوید صدیقی قاسمی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی نے کہا کہ اردو ایک ایسی زبان ہے، جس نے بھارت کی آزادی میں دوسری زبانوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ انھوں نے منتظمین کو اس پروگرام کے انعقاد کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدارس مکاتب اور اردو کی دیگر اکیڈمیوں کی طرح بنیادی وکاس سماج سیوی سمیتی بھی اردو کے فروغ کاری میں اپنا فعال کردار ادا کر رہی ہے ۔ مولانا عظیم اللہ قاسمی صدیقی میڈیا انچارج جمعیۃ علماء ہند نےامیر خسرو کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے کلام میں حد درجہ شیرینی اور مٹھاس پائی جاتی ہے، جو ان کے استاذ و مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کی دعاوں کی برکت ہے۔ قاری عبد السمیع صاحب نائب صدر جمعیۃ علماء دہلی نے کہا کہ اردو میں ایسی مٹھاس اور کشش ہے، جو سب کو اپنا بنا لیتی ہے، پروگرام حال میں اردو کے رنگ برنگے لگے کوٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ واقعی یہاں محبت ہے، کیوں کہ یہاں اردو ہے۔جناب وجاہت صاحب سنیر ایڈوکیٹ آف سپریم کورڈٹ نئی دہلی نے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا اور اپنے غیر مسلم دوستوں کو اردو میں میسج بھیجنے کا اہتمام کریں، بالیقین اس کی مٹھاس آپ کے دوست کو آپ کا گرویدہ بنا دے گی۔ محترمہ کملیش چوہدھری مہیلا ضلع صدر چاندنی چوک نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ یہ اردو ہی ہے، جس کے دم سے محبت کی فضا قائم ہے۔ اخیر میں بی بی رخسار بانو زوجہ سید محمود علی نے ایک نغمہ پیش کیا، جس سے حاضرین کافی محظوظ ہوئے۔

اس سے قبل انسٹی ٹیوٹ کی طالبات : محترمہ فائضہ صاحبہ، عمیرہ بنت محمد اشتیاق مرحوم، رجا علی بنت سید محمود علی، سلمہ بانو بنت ذوالفقار احمد، علی زا بنت محمد عاقل صاحبان نے انفرادی و مشترکہ طور پر دلچسپ پروگرام پیش کیے، جس میں حمد نعت، غزل اور نظم کے علاوہ حضرت امیر خسرو کی زندگی پر مشتمل ایک مکالمہ اور انسٹی ٹیوٹ کی کارکردگی کے بیانیہ پر مشتمل ایک اور مکالمہ پیش کیا گیا ۔ بعد ازاں گلدستوں سے مہمانوں کے استقبال کی رسم ادا کی گئی۔ پروگرام کی صدار ت انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جناب سرفراز احمد نے کی ، جب کہ نظامت کے فرائض جناب محمد انور اور محمد یاسین جہازی نے یکے بعد دیگرے انجام دیا۔ محفل کا آغاز حافظ محمد انس کی تلاوت سے ہوا، اور محترمہ نبیلہ احمد صدیقی صاحبہ، مہیلا ضلع صدر کانگریس پارٹی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام میں قرب و جوار کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ شرکت کنندگان میں جن اہم اور موقر شخصیات نے شرکت کیں، ان میں مولانا ارشاد صاحب قاسمی مادی پور، مولانا شمیم ریاض ندوی صاحب اقرء پبلک اسکول، دیپک گپتا صدر آئی ٹی سیل لچھمی نگر، محترمہ شاہانہ عباسی سابق پارشد ضلع کشن گنج، مولانا عبد الواحد قاسمی امام و خطیب ایک منارہ مسجد لچھمی نگر اور ڈاکٹر ابو مسعود علیگ کے نام قابل ذکر ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading