ممبئی: 7 اگست (ورق تاز ہ نیوز) – بمبئی ہائی کورٹ میں حضرت خواجہ غریب نواز ویلفیئر ایسوسی ایشن مہاراشٹرا کی جانب سے 24 مساجد میں اذان کے لیے قانونی حدود کے مطابق لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت سے متعلق دائر کی گئی عوامی مفاد کی عرضی (PIL) پر آج چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس سندیپ وی. مارنے کی بنچ نے سماعت کی۔عرضی گزار کی جانب سے ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری جناب محمد یوسف عمر انصاری نے عدالت سے گزارش کی کہ ریاستی حکومت اور دیگر فریقین کو ہدایت دی جائے کہ اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، بشرطیکہ آواز کی سطح مقررہ قانونی حد کے اندر ہو۔
تاہم، ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی گورنمنٹ پلِیڈر محترمہ پی ایچ کنٹھاریا نے ابتدائی اعتراضات اٹھاتے ہوئے عدالت کو مطلع کیا کہ محمد یوسف عمر انصاری کے خلاف 16 مئی 2025 کو شہر بدر (ایکسٹرنمنٹ) کا حکم جاری ہوا تھا، جس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ ممبئی شہر میں داخل ہوئے اور 4 جولائی 2025 کو عرضی کے حق میں حلف نامہ داخل کیا۔
گورنمنٹ پلِیڈر نے مزید بتایا کہ انصاری صاحب پر تعزیراتِ ہند کے تحت چار فوجداری مقدمات درج ہیں، اور انہوں نے ایک آڈیو کلپ جاری کر کے 22,900 افراد کو آج کی سماعت میں شریک ہونے کی دعوت دی تھی، جس کے نتیجے میں پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کرنی پڑی۔ریاستی وکیل کا مؤقف تھا کہ درخواست گزار کے جنرل سیکریٹری کے طرزِ عمل اور ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ عرضی ناقابلِ سماعت قرار دی جانی چاہیے۔اس پر درخواست گزار کے وکیل نے تمام الزامات کی تردید کی۔عدالت نے فریقین کو ہدایت دی کہ ریاستی حکومت اپنے اعتراضات دو ہفتوں میں تحریری طور پر داخل کرے، جن کا جواب عرضی گزار مزید دو ہفتوں میں دے سکتا ہے۔
دورانِ سماعت سینئر وکیل جناب یوسف مچھالا نے عدالت کو بتایا کہ اسی نوعیت کا ایک اور معاملہ – فوجداری رِٹ عرضی نمبر 3401/2025 – پہلے ہی زیر سماعت ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ مذکورہ فوجداری عرضی کو بھی موجودہ عوامی مفاد کی عرضی کے ساتھ مشترکہ سماعت کے لیے شامل کیا جائے۔معاملہ اب چار ہفتوں بعد سماعت کے لیے پیش کیا جائے گا۔(حسب ذیل میں آڈر کی پی ڈی ایف دی جارہی ہے)
ORDER 07 08 2025 AZAN LOUD SPEAKER 24 MASJID PIL L NO 21015 HKGNWAM