بغیر ثبوت الزامات سے گریز کیا جائے، دستیاب معلومات ایس آئی ٹی کو دی جائیں

بغیر ثبوت الزامات سے گریز کیا جائے، دستیاب معلومات ایس آئی ٹی کو دی جائیں

سابقہ فیصلوں کی بھی جانچ ہونی چاہیے، سب کے لیے یکساں اصول ضروری: آنند پرانجپے

تھانے: وکاس لوانڈے کی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے این سی پی کے ترجمان آنند پرانجپے نے کہا کہ کھرات معاملے میں حکومت کی جانب سے سنجیدہ اور سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس لیے غیر مصدقہ الزامات کے بجائے ٹھوس شواہد کے ساتھ بات کی جانی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حساس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے اس کی غیرجانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔

پرانجپے نے کہا کہ دیوندر فڑنویس نے اسمبلی میں خود اس بات کی تفصیل پیش کی ہے کہ ڈھونگی بابا اشوک کھرات کے خلاف مہایوتی حکومت کس طرح کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر داخلہ کی حیثیت سے وزیر اعلیٰ خود اس پورے معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور جو بھی شخص براہ راست یا بالواسطہ طور پر کھرات کی مدد میں ملوث پایا جائے گا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے روپالی چاکنکر کے عہدے سے استعفیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ اس معاملے میں مکمل شفافیت کے ساتھ تحقیقات ہونی چاہیے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق، کسی بھی فرد کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

وکاس لوَانڈے کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے پرانجپے نے کہا کہ ابتدا ہی سے مسلسل الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ اب بعض سینئر لیڈروں کو شریک ملزم بنانے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے عوام میں ابہام پیدا ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ذمہ داری کے ساتھ بات کی جائے۔ پرانجپے نے سابقہ حکومت کے دور کے کچھ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ جب آبی وسائل کا محکمہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے پاس تھا، اس وقت ایک ٹرسٹ کو پانی کی فراہمی کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیوں اور کس کے حکم سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بعض سابق ذمہ داران کے کھرات کے ساتھ روابط کے حوالے سے تصاویر اور ملاقاتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، اس لیے اگر یکساں اصول اپنائے جائیں تو ان پہلوؤں کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔

پرانجپے نے کہا کہ اگر کوئی بھی فرد واقعی شفافیت اور انصاف پر یقین رکھتا ہے تو اسے اپنے پاس موجود معلومات اور شواہد کو ایس آئی ٹی کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ تحقیقات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا یا عوامی بیانات کے ذریعے الزامات لگانے کے بجائے قانونی عمل کو تقویت دینا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔ انہوں نے پارٹی کے اندرونی نظم و نسق پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام فیصلے منظم اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت کیے جاتے ہیں اور قیادت کے تحت پارٹی مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے اندر قیادت کے حوالے سے ابہام پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ مختلف بیانات سے یہ واضح نہیں ہو رہا کہ فیصلہ سازی کا مرکز کہاں ہے۔

پرانجپے نے سماجی کارکنوں اور دیگر متعلقہ افراد سے بھی اپیل کی کہ اگر ان کے پاس کھرات معاملے سے متعلق کوئی مستند معلومات یا شواہد موجود ہیں تو وہ انہیں تحقیقاتی اداروں کے سپرد کریں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔

NCP Urdu News 28 March 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading