بریکنگ نیوز : پربھنی پتھراؤ معاملے میں گرفتار نوجوان کی موت کے بعد مہاراشٹر بند کا اعلان

پربھنی (ورق تازہ نیوز) پربھنی پتھر بازی کیس میں زیر حراست ایک نوجوان طالب علم کی عدالتی تحویل میں موت ہوگئی۔ جس کے بعد پرکاش امبیڈکر، آنندراج امبیڈکر نے اس واقعہ پر پر زور مذمت کی ہے۔

ضلع کی عدالت میں پتھراؤ کرنے والے 35 سالہ نوجوان کی عدالتی حراست میں موت نے ہلچل مچا دی ہے۔ اس نوجوان کا نام سومناتھ سوریاونشی ہے اور اسے ڈاکٹر نے مردہ قرار دیا ہے۔ دریں اثنا، اس معاملے کی وجہ سے پربھنی میں ایک بار پھر ماحول گرم ہونے کا امکان ہے۔

کیونکہ ریپبلکن سینا پارٹی کے صدر آنندراج امبیڈکر نے ان نوجوانوں کی موت کے بعد مہاراشٹر بند کی کال دی ہے۔نوجوان کی لاش سرکاری اسپتال پہنچنے کے بعد وہاں لوگوں کی بڑی بھیڑ جمع ہوگئی۔ جائے وقوعہ پر سخت پولیس کی موجودگی رکھی گئی ہے اور سینئر عہدیداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھیڑ کے جذبات کو بھڑکانے سے بچنے کے لیے پرسکون رہیں۔ اس دوران شہر کا مرکزی بازار جزوی طور پر کھل گیا تاہم بیشتر تاجروں نے اپنے کاروبار بند رکھنے کو ترجیح دی۔

پرکاش امبیڈکر نے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ونچیت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی اور سومناتھ سوریاونشی کی موت کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پرکاش امبیڈکر نے کہا، "پربھنیت وڈار برادری کے بھیمسائینک سومناتھ سوریاونشی کی پولیس حراست میں موت ہو گئی ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ اور المناک ہے۔ یہ تکلیف دہ ہے کہ ان کی ضمانت کی درخواست منظور ہونے کے باوجود عدالتی حراست میں موت ہو گئی۔”

اسی معاملے میں گرفتار سومناتھ سوریہ ونشی کی اج پولیس کسٹڈی کے دوران موت ہو گئی جس کی اطلاع شہر بھر میں اگ کی طرح پھیل گئی اور دوبارہ سے پربھنی شہر میں اج کشیدگی کا ماحول ہےشہر کے اس کشیدہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے دوبارہ سے شہر بھر میں سخت انتظامات کر دیے ہیں جبکہ مہاراشٹر ریپبلک سینا نے ریاست بھر میں بند منانے کا اعلان کیا ہے۔

اس نوجوان کی موت کے بعد پیدا ہوئے حالات کے پیش نظر ایس ٹی مہا منڈل نے بھی پربھنی شہر سے گزرنے والی تمام بسوں کو منسوخ کر دیا ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو بہت سی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading