بریکنگ نیوز : ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغ دیے

ایران کے سرکاری ٹی وی نے پاسدان انقلاب کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اسرائیل کی جانب درجنوں میزائل داغے جانے کی تصدیق کی ہے۔

پاسداران انقلاب نے اس بیان میں اسرائیل کو دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو وہ مزید حملے کرے گا۔

پاسداران انقلاب نے بیان میں ان میزائل حملوں کو جولائی میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ اور چند روز قبل حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے قتل کا بدلہ قرار دیا ہے۔

آئرن ڈوم اور دیگر اسرائیلی دفاعی نظام کیا ہیں اور وہ کیسے کام کرتے ہیں؟

پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کی فضائیہ نے اسرائیل کے ’اہم ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا ہے اور اس کی تفصیلات کا اعلان وہ بعد میں کریں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے امریکہ کے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کا حزب اللہ کے خلاف زمینی آپریشن ہفتوں نہیں بلکہ دنوں تک محدود ہو گا۔ایران نے اسرائیل کی جانب درجنوں میزائل داغے جانے کی تصدیق کی ہے۔ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی جوابی کارروائی کے نتیجے میں مزید حملے کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

یاد رہے کہ راتوں رات لبنان میں زمینی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل نے اسے ’محدود اور ٹارگٹڈ ریڈ‘ کہا ہے۔, لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کارروائی دنوں تک محدود ہو گی: امریکی رپورٹ

اسرائیل کی جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی: ’معاملات کہاں جا رہے ہیں، یہ کوئی نہیں جانتا‘,جیریمی بوون

کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ یہ تنازعہ اس وقت کدھر جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں بہت کچھ ایران کے ردعمل پر بھی منحصر ہے تاہم ایسا بھی ممکن ہے کہ ایران نے فیصلہ کیا ہو کہ فی الحال فوجی جواب دینا داشنمندی نہیں۔اسرائیل خود کو کافی کامیاب محسوس کر رہا ہے اور جوابی حملہ کر سکتا ہے جبکہ امریکہ خطے میں مزید فوجیوں کے ساتھ ایک اضافی طیارہ بردار جہاز بھی بھیج رہا ہے، جسے ایران کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس لیے ایران شاید مناسب موقع کا انتظار کر سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کچھ لوگوں کی توقع کے برعکس خطے میں چیزیں بہت آہستہ سامنے آ سکتی ہیں۔شیئر, اسرائیل کی جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی: ’معاملات کہاں جا رہے ہیں، یہ کوئی نہیں جانتا‘ایک تیز اور مؤثر کارروائی یا جنوبی لبنان پر نہ ختم ہونے والی قبضے کی جنگ,فرینک گارڈنر، بی بی سی نامہ نگار برائے سکیورٹی امورلبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائیوں کے ابتدائی مرحلے میں یہ پیش گوئی کرنا کافی مشکل ہے کہ آیا اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں زمینی فوجوں کو اُتارنا کیا ایک تیز اور مؤثر کارروائی ہو گی جیسا کہ اسرائیل چاہتا ہے یا (جیسا کہ بہت سے لوگ پیش گوئی کر رہے ہیں) اسرائیل لبنان میں اُسی انداز میں پھنس جائے گا جیسا کہ سنہ 1982 سے سنہ 2000 کے درمیان ہوا تھا۔حزب اللہ کی جانب سے اپنے ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے لیے جنوبی لبنان کے علاقوں میں بنایا گیا سینکڑوں کلومیٹر پر محیط طویل سرنگوں، غاروں اور بھول بھلیوں کا نیٹ ورک ختم کرنا کوئی جلدبازی میں کیے جانے والا آسان عمل نہیں ہو گا۔اگرچہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ بُری طرح متاثر ہوئی اور اس کے درجنوں سینیئر کمانڈرز مارے گئے ہیں مگر اس کے باوجود اب بھی اس تنظیم کے پاس ہزاروں جنگجو موجود ہیں۔یہ جنگجو تربیت یافتہ ہیں اور شام میں لڑائی کے تجربے نے اُن کی لڑنے کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جبکہ وہ لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کی شدید خواہش بھی دل میں لیے ہوئے ہیں۔اسرائیلی فوج کے لیے حزب اللہ کے یہ جنگجو غزہ میں حماس کے جنگجوؤں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط دشمن ہیں۔ان جنگجوؤں کو دستیاب ہتھیاروں کے ذخیرے میں طاقتور روسی ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل بھی ہیں جو اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں کو باآسانی ہدف بنا سکتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسا کہ انھوں نے سنہ 2006 میں اسرائیل، حزب اللہ کی 34 روزہ جنگ کے دوران کیا تھا۔34 روز جاری رہنے والی یہ جنگ بے نتیجہ ختم ہوئی تھی۔تاہم اس مرتبہ اسرائیلی فوج اس چیلنج سے زیادہ باخبر دکھائی دیتی ہے جس کا اسے لبنان میں سامنا ہے لیکن یہ خطرہ باقی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جنوبی لبنان پر قبضے کی جنگ کی جانب دھکیل دیں اور اِس جنگ کا وہ رُخ ہو گا جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آتا۔شیئر, ایک تیز اور مؤثر کارروائی یا جنوبی لبنان پر نہ ختم ہونے والی قبضے کی جنگ
4 گھنٹے قبل اسرائیلی فوج کئی ماہ سے لبنان کے اندر کارروائیاں کر رہی ہے: آئی ڈی ایفاسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے کہا ہے کہ وہ کئی ماہ سے لبنان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے گزشتہ مہینوں میں درجنوں بار لبنان کے اندر کارروائی کر کے سرنگوں کو تباہ کیا۔لبنان میں اسرائیلی حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈینیئل ہیگری نے کہا کہ ’ہم حزب اللہ کے ساتھ فی الحال آمنے سامنے نہیں لڑ رہے لیکن ہم اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک ریڈ ہے، ایک وسیع ریڈ۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم جتنی تیزی سے کر سکتے ہیں، ہم اس خطرے کو ختم کر دیں گے۔ ہم حزب اللہ کو سرحد سے پیچھے دھکیل دیں گے۔‘شیئر, اسرائیلی فوج کئی ماہ سے لبنان کے اندر کارروائیاں کر رہی ہے: آئی ڈی ایف

لبنان سے اسرائیل میں تقریباً 15 میزائل داغے گئے: اسرائیلی فوج

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں زمینی کارروائی کے دوران حزب اللہ کے لانچنگ پیڈز اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے تاہم جنوبی لبنان کی جانب سے راکٹ داغے جانے کا سلسلہ رکا نہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک گھنٹے میں لبنان سے تقریباً 15 میزائل داغے گئے، جو شمالی اسرائیل میں گلیل کے خطے میں ’کھلے علاقوں‘ میں گرے۔اسرائیلی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے لڑاکا طیارے اور جنگی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading