نئی دہلی: ملک کے مختلف حصوں میں تیز ہوا کے ساتھ بے موسم بارش اور ژالہ باری سے نہ صرف عام لوگوں کی مصیبتیں بڑھی ہیں بلکہ ربیع کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور آم کی فصل میں گچھے کی بیماری کا اندیشہ کافی حد تک بڑھ گیا ہے۔
شمالی ریاستوں پنجاب، ہریانہ، اترپردیش اور راجستھان کے متعدد اضلاع میں 48 گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش کے ساتھ تیز ہواؤں اور ژالہ باری نے گندم، جو، چنے اور سرسوں کے ساتھ سبزی کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے اگلے چوبیس گھنٹوں میں پہاڑی ریاستوں میں بارش اور برف باری کی پیشن گوئی کی ہے، دوسری طرف میدانی علاقوں میں بارش سے کسانوں کو حالت زار سے فی الحال کوئی راحت نہیں ملی ہے۔
ہندستانی زراعت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زرعی تکنالوجی تشخیص اور منتقلی مرکزکے سربراہ جے پی ایس ڈباس نے سنیچر کو بتایا کہ ملک کی کئی ریاستوں میں تیز ہوا کے ساتھ ہی اچھی بارش ہوئی ہے اور کئی مقامات پرژالہ باری ہوئی ہے جس سے ربیع کی فصلوں کو نقصان ہوا ہے۔ بارش ہونے سے ماحولیات میں نمی بڑھ گئی ہے اور گرمی ہونے سے کیڑوں کی بیماری کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
इन किसानों का दर्द सुनिए। ओलावृष्टि और भारी बारिश के चलते उत्तर प्रदेश की तमाम जगहों पर किसानों की फसल बर्बाद हो गई। कई किसानों की तो 80% तक फसल बर्बाद हो गई है।
यूपी की भाजपा सरकार को कोरे दावे करने की बजाय नुक़सान का पूरा आंकलन करके किसानों को उचित मुआवजा देना चाहिए। pic.twitter.com/NOKptNJqMk
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) March 7, 2020
ڈاکٹر ڈباس نے بتایا کہ تیز ہوا اور بارش سے گیہوں کی فصل گر گئی ہے جس سے پیداوار میں کمی آئے گی او ر کٹائی میں پریشانی کے ساتھ ہی زیادہ مزدور لگیں گے۔ گیہوں کی بالیاں ان دنوں نکلی ہوئی ہے اور یہ جلد ہی تیار ہونے والی ہیں۔ زمین میں نمی کی وجہ سے دلہنی فصلوں خاص طورپر چنا اور مٹر کی فصلوں پر پھلی میں چھید کرنے والے کیڑوں کی بیماری کاخطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ژالہ باری سے بھی ان فصلوں کو نقصان ہوا ہے۔ نمی کی وجہ سے دلہنی فصلوں کے بڑھنے کی رفتارتیز ہوجائے گی جس سے دانا کم بڑھے گا۔
بھاری بارش سے کسانوں کی تباہی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’ان کسانوں کا درد سنئیے۔ ژالہ باری اور بھاری بارش کے سبب اتر پردیش میں ہر جگہ کسانوں کی فصل برباد ہو گئی۔ کئی کسانوں کی تو 80 فیصد تک فصل برباد ہو گئی ہے۔‘‘
انہوں نے معاوضہ کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا، ’’یوپی کی بی جے پی حکومت کو خالص دعوے کرنے کی بجائے نقصان کا جائزہ لے کر کسانوں کو مناسب معاوضہ دینا چاہئے۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو