بابری مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں سری کرشنا رپورٹ میں اصل بنیاد: 1949 میں مورتیاں رکھنا اور 1992میں مسجد کی مسماری کو غیر قانونی قراردیا گیا تھا : جاوید جمال الدین

ممبئی9 نومبر. اجودھیا میں 6دسمبر 1992کو تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا گیا ،آج سپریم کورٹ نے 1949میں مسجد میں مورتیاں رکھے جانے اور مسجد کی شہادت کو غیر قانونی فعل قراردیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔واضح رہے کہ ممبئی فسادات کی تحقیقات کرنے والے سری کرشنا کمیشن نے بھی 1949میں مورتیاں رکھنا اور 1992میں مسجد کی مسماری کو غیر قانونی قراردیا تھا۔

دراصل1992میں مسجد کی مسماری کے بعد ملک بھر میں تشدد پھوٹ پڑا ،لیکن ملک کے تجارتی مرکز ممبئی میں بڑے پیمانے پر تشددپھوٹ پڑا ،ان دو دورکے فسادات کی تحقیقات کے لیے حکومت نے بمبئی ہائی کورٹ کے سٹنگ جج جسٹس بی این سری کرشنا کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جنہوں نے ایک منصفانہ رپورٹ پیش کی،اس کمیشن کی کارروائی کی پہلے روز سے رپورٹنگ کرنے والے اور رپورٹ کے اردومترجم و معروف صحافی جاویدجمال الدین نے کہاکہ جسٹس سری کرشنا نے اپنی رپورٹ میں بابری مسجد کی شہادت اور رام جنم بھومی کے لیے شروع کی جانے تحریک کو ہی بنیاد قراردیا تھا،انہوں نے سپریم کورٹ کے ذریعہ 1949میں بابری مسجد میں مورتیاں رکھنے اور مسجد کی شہادت کو غیرقانونی قراردینے کو ایک تاریخی فیصلہ بتایا ہے۔

انہوں نے سری کرشناکمیشن نے واضح کردیا تھا کہ 1980کے عشرہ میں رام مندر کی تحریک شروع کی گئی اورایک بار پھر ہندووادی (ہندوﺅں کی فرقہ پرست جماعتوں،تنظیموں)نے اجودھیا میں بابری مسجد کی جگہ مجوزہ رام مندر کی تعمیر کرنے کی مہم شروع کردی۔ان کا دعویٰ تھا کہ یہ بھگوان شری رام کی جائے پیدائش ہے۔دوسری جانب ظاہر سی بات تھی کہ مسلمان ایک انچ زمین دینا نہیں چاہتے ہیں.

جاوید جمال الدین نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق اس تنازعہ نے اس وقت سنگین رخ اختیار کرلیا ،جب عدلیہ کی جانب سے مقدمہ میں کافی تاخیر ہوگئی اور سیاسی مفاد کے لیے اس معاملہ کو ایک نیارخ80کی دہائی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے دیا اور اس کے سربراہ ایل اے اڈوانی نے رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ پرعوامی(ہندوﺅں) بیداری پیدا کرنے کے لیے رتھ یاترا نکالی اور اس دوران جگہ جگہ چھوٹے بڑے پیمانے پرفسادات ہوئے۔

انہوں نے کہاکہ جسٹس سری کرشنا نے تاریخی حوالے پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملک سے برطانوی سامراج کو باہر نکالنے کے لیے ہندوﺅں اور مسلمانوں نے متحد ہوکر آپسی ملنساری کے ساتھ جدوجہد کی تھی۔اس اتحاد واتفاق کو محمدعلی جناح کے ”دوقومی نظریہ “ نے تباہ وبربادکردیا۔ جس کے نتیجہ میں سیاسی طورپرملک کی تقسیم ہوگئی اور سرحد کے دونوں جانب لاکھوں معصوم اور بے گناہ انسانوںکا قتل عام کیا گیا۔ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ دیگر فرقے کی اکثریت اور اثرورسوخ رکھنے والے علاقوںمیں رہائش پذیر تھے۔انہوںنے ملک کی آزادی اور اس ہندوستانی آئین کو تسلیم کرلیا تھا ،جس نے اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ رعایتیں بھی دی تھیں۔ ایک وقفہ کے ساتھ اقلیتی فرقہ کو دیئے جانے والے خصوصی اختیارات نے ان کی نفسیات پر گہرا اثر کرنا شروع کیا۔ہندووں میں یہ خوف پایا جانے لگا کہ جلد ہی وہ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔ اس سوچ نے صورت حال کو کافی بگاڑدیا اور ”ہم اور وہ “ کی نفسیات پنپنے لگی۔اس کا سیاسی فائدہ مفاد پرستوں نے اٹھایا اور ہندوﺅں کے ایک طبقہ نے متعدد مساجد کو آزاد کرانے کے لیے مہم شروع کردی ،جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ مسلم دورحکومت میںانہیں مندر سے ہی مسجد میں تبدیل کردیا گیا تھا ،اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جانے لگی تھی۔اور 1949سے پھر ایک بارہندووادی (ہندوﺅں کی فرقہ پرست جماعتوں، تنظےموں)نے اجودھیا میں بابری مسجد کی جگہ مجوزہ رام مندر کی تعمیر کرنے کی مہم شروع کردی۔ان کا دعویٰ تھا کہ یہ بھگوان شری رام کی جائے پیدائش ہے۔دوسری جانب ظاہر سی بات تھی کہ مسلمان ایک انچ زمین دینا نہیں چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق اس تنازعہ نے اس وقت سنگین ر ±خ اختیار کرلیا ،جب عدلیہ کی جانب سے مقدمہ میں کافی تاخیر ہوگئی اور سیاسی مفاد کے لیے اس معاملہ کو ایک نیار ±خ 90کی دہائی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے دیا اور اس کے سربراہ ایل اے اڈوانی نے رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ پرعوامی(ہندوﺅں) بیداری پیدا کرنے کے لیے رتھ یاترا نکالی اور اس دوران جگہ جگہ چھوٹے بڑے پیمانے پرفسادات ہوئے ،جوکہ اس ملک کے لیے زہر کی طرح ہیں۔

جاویدجمال الدین نے مزید کہا کہ کمیشن نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ ان تحریکوں کی وجہ سے ملک کے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونے لگا تھا جبکہ تحریک کے رہنماءاشتعال انگیزی سے باز نہیں آرہے تھے اور یہی چیزیں دونوں فرقوں کے درمیان خلیج برھاتی چلی گئیں،جس کا ہندوستان کے ہم آہنگی اور بھائی چارگی پر کافی بُرا اثر ہوا ۔ان زخموں کو بھرنے کے لیے ایک عرصہ درکار ہوگا۔معروف صحافی کا کہنا ہے کہ” 6دسمبر 1992کے بعد میرے جیسے ہزاروں افراد عدم تحفظ کا شکار ہوگئے تھے ،لیکن رپورٹ کے منظرعام آنے پر اس ملک کے آئین ،سیکولرزم اور جمہوریت پر اعتماد بحال ہوا ہے ۔بابری مسجد کی شہادت نے مسلمانوں میں ایک طرح سے بیداری پیدا کی اور اس تخریب عمل میں تعمیرکا پہلو چھپا ہوا تھا اور اس بار بھی ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading