بابری مسجد۔ رام جنم بھومی معاملہ پر اشتعال انگیز بیانات پراسد اویسی کو نوٹس جاری ہوسکتا ہے

نئی دہلی۔  قومی اقلیتی کمیشن، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کو بابری مسجد۔ رام جنم بھومی معاملہ میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر ان کے ذریعہ دئیے گئے بیانات کو لے کر نوٹس جاری کر سکتا ہے۔

نیوز 18 اردو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کمیشن کے چئیرمین غیور الحسن رضوی نے کہا کہ اویسی مسلسل اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں اور کمیشن ان کے بیانات پر نظر رکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن اشتعال انگیز بیانات کے لئے اویسی کو نوٹس جاری کرنے پر غور کر رہا ہے۔

 

غیور الحسن رضوی نے ایک اور بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایودھیا میں مسلمانوں کو  مسجد کے لئے 67 ایکڑ جگہ سے الگ جگہ دی جانی چاہئے۔ کیونکہ اس سے تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ 9 نومبر کو ایودھیا تنازع میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ایم آئی ایم  سربراہ اسد الدین اویسی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مسلمانوں کو پانچ ایکڑ زمین کا آفر مسترد کردینا چاہئے ‘‘۔ اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے کہا تھا کہ’’ ہندوستان کی عدلیہ پر ہمیں اٹوٹ بھروسہ  ہے، لیکن مسلمان اپنے قانونی حق کیلئے لڑ رہے تھے۔ میری سمجھ سے ہمیں پانچ ایکڑ زمین کا آفر مسترد کردنا چاہئے‘‘۔

 اویسی نے مزید کہا تھا کہ مسلمان غریب ہیں، لیکن مسجد بنانے کیلئے ہم پیسہ اکٹھا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس نے اپنا اصلی رنگ دکھا دیا ہے۔ کانگریس پارٹی کے دھوکہ بازوں کیلئے تو 1949 میں مورتیاں نہیں رکھی گئی ہوں گی۔ اگر راجیو گاندھی کے ذریعہ تالے نہیں کھولے جاتے تو مسجد اب بھی ہوتی ۔ نرسمہا راو نے اپنے فرائض کو ادا کیا ہوتا تو اب بھی مسجد ہوتی (بہ شکریہ نیوز18اردو)۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading