جھوٹے اعداد وشمار پیش کرکے وزیر اعلیٰ عوام کو گمراہ کررہے ہیں
جالنہ میں کانگریس کی جن سنگھرش یاترا کا والہانہ استقبال
جالنہ: وزیراعلیٰ اپنے انٹرویو میں مہاراشٹر میں ’سجلم سفلم‘ قرار دے رہے ہیں۔ میں ان پر کوئی الزام عائد نہیں کرونگا کیونکہ ممبئی میں اے سی کیبن میں بیٹھ کر وہ مراٹھواڑہ کی خشک سالی اور یہاں کےبے سہارا لوگوں کے دکھوں کو نہیں سمجھ سکتے ۔یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کے صدر اشوک چوہان نے جن سنگھرش یاترا کے دوران منعقدہ ایک جلسہ عام میں کہیں۔ وہ ریاستی بی جے پی وشیوسینا حکومت کی جانب سے میڈیا میں جاری ان اشتہارات پر ا پنے ردعمل کا اظہار کررہے تھے، جس میں اپنے چار سالہ دور میں حکومت نے ریاست کو ترقی کی جانب گامژن کا دعویٰ کیا ہے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اشوک چوہان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خود کو پرموٹ کرنے میں بہت مصروف ہیں،انہیں کسانوں کو ان کی فصلوں کی بربادی پر امداد، پینے کے لئے صاف پانی کی فراہمی اور کسانوں کے قرضہ جات کو معاف کرنے کے لئے وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریاستی حکومت کے چار سال مکمل ہونے پر نیوزچینلوں کو انٹرویو دے رہے ہیں جس میں وہ ترقی سے متعلق جھوٹے اعداد وشمار پیش کرکے ریاست کی عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ ممبئی کے اے سی کیبن میں بیٹھ کر انہیں سلگتا ہوا مہاراشٹر نظر نہیں آئےگا۔ وہ مراٹھواڑہ میں آکر یہاں کی حقیقی صورت حال دیکھیں پھر انہیں اندازہ ہوگا کہ یہاں کے لوگوں کی زندگی کتنی مشکل ہوچکی ہے اور یہاں خشک سالی کی شدت کتنی شدت اختیار کرچکی ہے۔ جالنہ کی ترقی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کانگریس نے جالنہ کی شہر کی ترقی میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی تھی ، لیکن جب سے ریاست میں بی جے پی وشیوسینا کی حکومت آئی ہے، جالنہ کی ترقی کی رفتار پر بریک لگ گیا ہے۔ ریاستی حکومت کے چارسالہ دور میں ریاست کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید الجھ گئے ہیں۔ اس حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں دعوں اور تقریروں کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔ ان چارسالوں میں ریاست میں ۱۶؍سے زائد کسانوں نے خودکشی کرلی ہے اور اب توکسانوں کے بچے بھی خوکشی پر مجبور ہورہے ہیں۔ اس حکومت نے کسانوں کی قرض معافی کا اعلان کیا لیکن ابھی تک کسانوں کو قرض معافی کا کوئی فائدہ نہیں مل سکا ہے۔ مراٹھا، مسلم ودھنگر سماج کے ریزرویشن کا مسئلہ بھی یہ حکومت حل نہیں کرسکی ہے۔ کسانوں ، مزدورں، نوجوانوں وخواتین سمیت تمام طبقات کو حکومت نے دھوکہ دیا ہے۔ ریاست شدید ترین خشک سالی سے جوجھ رہا ہے ، حکومت کے خلاف لوگوں میں زبردست ناراضگی ہے لیکن حکومت کی ناکامی کو چھپانے کے لئے وزیراعلیٰ نیوزچینلوں کو دئیے جانے والے انٹرویو میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ اشوک چوہان نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریاست میں زیرزمین آبی سطح میں اضافے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کا سروے کرنے والا ادارہ ہی یہ رپورٹ دیتا ہے کہ ریاست کے کئی اضلاع میں زیرزمین آبی سطح میں دو سے تین میٹر تک کمی آئی ہے۔ جل یکت شیوار پروجیکٹ سے عوام کو کوئی فائدہ تو نہیں ہوا ہے لیکن بی جے پی وشیوسینا کے لیڈران کو اس کا فائدہ ضرور ملا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جل یکت شیوار پروجیکٹ میں ہزاروں کروڑ روپئے کی بدعنوانی ہوئی ہے، اس لئے اس پورے پروجیکٹ کی تفتیش کرائی جائے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ وزیراعلیٰ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ بی جے پی وشیوسینا حکومت آنے کے بعد ریاست میں اطفال وماؤں کی اموات میں کمی آئی ہے، جبکہ ریاست کے خاندانی فلاح وبہبود کے محکمے سے یہ وزیراعلیٰ کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ریاست میں گزشتہ تین سال میں ۸۰ہزار بچوں و ماؤں کی موت ہوئی ہے۔انہوں نے یہ سوال کرتے ہوئے کہ یہ عدد وزیراعلیٰ کو کم معلوم ہوتا ہے کیا؟ وزیراعلیٰ سے کہا کہ وہ ریاست کا دورہ کریں، اس کے بعد انہیں ریاست کی اصل صورت حال کا اندازہ ہوجائے گا۔ اشوک چوہان نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کرکے لوگوں کو لوٹا جارہا ہے۔ ہر پٹرول پمپ پر وزیراعظم اپنا ہنستا ہوا فوٹو لگواکر لوگوں کو یہ جتارہے ہیں کہ دیکھو میں نے لوگوں کو کس قدر بے وقوف بنایا ہے۔ اگر دوبارہ بی جے پی کی حکومت آتی ہے تو ایندھن کی قیمتیں اس قدر بڑھ جائیں گی کہ لوگوں کو بیل گاڑیوں سے چلنے کی نوبت آجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ملک میں جمہوریت اور دستور کی حفاظت کی ہے جبکہ بی جے پی کے وزیر دستور بدلنے کی بات کررہے ہیں۔ مودی اور فڈنویس جمہوریت کے بجائے ہٹلرازم کے ذریعے ملک وریاست کو چلا رہے ہیں۔ کاروباریوں کو دھمکی دی جارہی ہے، پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو وزیراعظم پکوڑے فروخت کرنے کا مشورہ دے کر ان کی تضحیک کررہے ہیں۔ عورتوں پر ہونے والے مظالم میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی کے لیڈران عورتوں پر ظلم کررہے ہیں۔ بی جے پی کےایم ایل اے لڑکیوں کو اغواء کرنے کی بات کرتے ہیں اس کے باوجود بی جے پی ان پر کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے۔ اس موقع پر اسمبلی میں حزبِ اختلاف لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ریاست میں ہر طرف افراتفری کا عالم ہے، ایسی حالت میں وکاس یاترا نکالتے ہوئے حکومت کو شرم آنی چاہئے۔ جبکہ سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے مودی حکومت کی بدعنوانی پر جم کر تنقید کی اور کہا کہ رافیل طیارہ بدعنوانی معاملے میں ملک کو سچائی بتانے کے بجائے وزیراعظم خاموش ہیں۔ اس جلسہ عام میں شہر وضلع جالنہ کے تمام کانگریسی لیڈران اور بڑی تعداد میں کانگریسی کارکنان وعوام نے شرکت کی ۔ آج یہ جن سنگھرش یاترا اورنگ آباد ضلع کے کنڑو گنگاپورپہونچے گی اور یہاں بھی جلسہء عام کا انعقاد ہوگا۔