نئی دہلی،27جون (یو این آئی) فوڈ اینڈ سول سپلائی اور صارفین کے امور کی وزارت نے عام آدمی کی سہولت کے لیے ایک ملک، ایک راشن کارڈکا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کی صدارت میں آج یہاں ریاستوں کے ٖغذا کے سکریٹریوں، فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی)، سینٹرل ویئرہاؤسنگ کارپوریشن (سی ڈبلیو سی) اور اسٹیٹ ویئرہاؤسنگ کارپوریشن (ایس ڈبلیو سی) کے افسران کی ہونے والی میٹنگ میں ایک ملک ایک راشن کارڈ کے ہدف کوپورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سہولت سے ملک کے کسی کونے کے پبلک ڈسٹریبیوشن سسٹم کی دکان سے اناج حاصل کرسکتا ہے۔ یہ پروگرام آندھرا پردیش، گجرات، ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرلا، مہاراشٹر، راجستھان، تلنگانہ اور تریپورہ میں نافذ ہے۔
میٹنگ میں فوڈ سیفٹی قانون کو کامیابی کے ساتھ نافذ کرنے، کمپیوٹرائزیشن، شفاف، ایف سی آئی، سی ڈبلیو سی اور ایس ڈبلیو سی کے تمام ڈپوکو ڈپوآن لائن سسٹم(ڈی او ایس)کے ساتھ جوڑنے پر غوروخوض کیا گیا۔ مسٹر پاسوان نے کہا کہ خوراک اور عوامی تقسیم کے محکمہ کے ذریعے کیا گیا کام بہت اہم ہے کیونکہ یہ فائدہ پانے والوں کے لیے بے حد اہم ہے۔ عوامی تقسیم کے عمل کے ذریعے سے تقریباً 612 لاکھ ٹن اناج ہر سال 81 کروڑ افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ اناج کی خریداری کے سلسلے میں اس کے تقسیم تک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال پورے عمل کی بہتر کارکردگی میں اضافہ کرےگا۔ اس سے بدعنوانی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مسٹرپاسوان نے کہا کہ انڈین فوڈ سسٹم کے تمام سینٹروں اور سینٹرل اسٹوریج کارپوریشن کے 144 اسٹوریج میں آن لائن سسٹم (ڈی او ایس) نافذ کیا جا چکا ہے۔