ایپسٹین فائل معاملہ: کانگریس-ونچت کا ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر تک 23 مارچ کو احتجاجی مارچ
کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر ایڈووکیٹ پرکاش امبیڈکر کی قیادت میں بڑا مظاہرہ
ایپسٹین فائل میں نریندر مودی کے نام کے مبینہ ذکر اور امریکہ سے معاہدوں پر سوالات اٹھائے جائیں گے
ممبئی: ایپسٹین فائل معاملے میں سامنے آئی معلومات اور اس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نام کے مبینہ ذکر پر جواب طلب کرنے کے لیے کانگریس، ونچت بہوجن اگھاڑی اور دیگر ہم خیال پارٹیوں کی جانب سے پیر 23 مارچ کو ایک مشترکہ احتجاجی مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ مارچ ناگپور کے سنویدھان چوک سے شروع ہو کر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے مرکزی دفتر تک نکالا جائے گا، جس میں ہزاروں عہدیداران اور کارکنان کی شرکت متوقع ہے۔ اس احتجاج کی قیادت کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر ایڈووکیٹ پرکاش امبیڈکر کریں گے۔
مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائل کی تفصیلات میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نام کا حوالہ سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ مرکزی کابینہ کے ایک وزیر ہردیپ پوری کا نام بھی متعدد مرتبہ اس فائل میں آنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ اسی کے ساتھ امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے ہندوستان کے کسانوں اور زرعی شعبے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مبینہ مفاہمت کے ذریعے ہندوستان کی خودمختاری اور وقار کو نقصان پہنچنے کا تاثر پیدا ہوا ہے اور ایپسٹین فائل کے تناظر میں نریندر مودی اور بی جے پی کی پالیسیوں، طرز عمل اور کردار پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ کانگریس نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بی جے پی کی بنیادی تنظیم کے طور پر انتخابی عمل میں سرگرم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ متاثر ہونے کے باوجود آر ایس ایس نے نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار کیوں رکھا ہوا ہے۔ اسی مطالبے کو لے کر یہ مشترکہ مارچ منعقد کیا جا رہا ہے۔
MPCC Urdu News 21 March 26.docx