ایودھیا میں تعمیر عدالت کو کھلا ”چیلنج “ : مسلم پرسنل لاءبورڈ

لکھنو ۔ 25 نومبر ۔ وشواہندو پریشد کی دھرم سبھا اور شیو سینا کے صدر ادھو ٹھاکرے کے دورہ ایودھیا کو سپریم کورٹ کےلئے ایک کھلا چیلنج قرار دیتے ہوئے کُل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ نے آج کہا کہ صورتحال مسلمانوں کے خلاف تیار کی جارہی ہے ۔ بورڈ نے کہا کہ یہ مسجد کےلئے دینے کا معاملہ نہےں ہے بلکہ اصول کا معاملہ ہے کہ کتنی مسجدوں کی قربانی بتدریج دی جائے گی ۔ اگر ہم کسی سے بھی بات کریں تو وہ یقیناً اس بات کی تردید کرے گا کہ مزید قربانیاں طلب کی جائیں گی ۔ سری سری روی شنکر نے پیشکش کی تھی کہ وہ ایک بڑی مسجد ایودھیا کے باہر تعمیر کریں گے لیکن بعد ازاں انہوں نے خود کو درکنار کرلیا ۔ تصور کرےں کہ اگر ہم اُن کے ساتھ معاہدہ کرلیتے تو کیا ہوتا ۔ جنرل سکریٹری بورڈ مولانا ولی الرحمن نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وی ایچ پی کا دھرم سنسد اور ٹھاکرے کا دورہ اور اسی طرح کے دیگر پروگرامس مسلمانوں کے خلاف ماحول تیار کرنے اور عدلیہ ( سپریم کورٹ ) کو کھلا چیلنج کرنے کے مترادف ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اپنے بیان میں کہاکہ فوج ایودھیا میں تعینات کردینی چاہیئے ۔ رحمانی نے کہاکہ یہ مطالبہ خاص طور پر اس لئے جائز نہےں ہے کہ ریاستی پولیس کے کردار کو اور مسلمانوں کے خلاف اس کے متعصبانہ رویہ کو ذہن میں رکھنا چاہیئے ۔ ایسی صورتحال میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اکھلیش پولیس سے مایوس ہیں اور انہوں نے وہاں فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ حکومت کو فرقہ وارانہ کشیدگی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے ۔ یادو نے جمعہ کے دن کہا تھاکہ سپریم کورٹ کو یو پی کی صورتحال کا نوٹ لینا چاہیئے اور اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے اور ضرورت ہو تو جیسا کہ بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیاں کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا معاملہ کی یکسوئی کےلئے جہاں تک بات چیت کا تعلق ہے ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ایودھیا کے باہر مسجد کی تعمیر کےلئے ایسا کرنا ضروری ہے ۔ یہ اپنی شرائط مسلط کرنے کے سوائے اور کچھ نہےں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی قیمت پر سمجھوتہ کئی دیگر جھول رکھتا ہے ۔ رحمانی نے کہاکہ سب سے پہلی بات یہ کہا جائے گا کہ اگرمسلمان مسجد کا دعویٰ ترک کرسکتے ہیں تو دوسری ، تیسری ، چوتھی اور یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا ۔ دوسری بات یہ کہ اگر اعظم ترین مسلم پارٹیاں مسجد کی اراضی کےلئے دستخط کردیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ دستخط نہ کرنے والے ایک اور مسجد تعمیر نہےں کریں گے ۔ اس سوال پر کہ کیا یہ کوشش مندر کا مسئلہ پُرامن ہونے تک اٹھایا جاتا رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہےں کہ ہمارے ہندو بھائی سمجھتے ہیں کہ پولیس خالص ہے لیکن وہ یقیناً سنگ بنیاد کی تحریک جس کو ہندو اپنا موقف قرار دیئے گئے ہیں کیا کامیاب ہوسکتی ہے ۔ صرف وقت ہی اس کا جواب دے گا کہ وہ کہاں تک کامیاب ہوگی ۔ رحمانی نے کہا کہ بورڈ کا اجلاس 16ڈسمبر کو منعقد ہوگا ، جس میں ایودھیا کی صورتحال پر غور کیا جائے گا ، حالانکہ یہ اس کے ایجنڈہ میں شامل نہےں ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading