عدالت کے فیصلے کی ہم سبھی کو عزت کرنی چاہیے: راہل گاندھی
ایودھیا معاملہ پر فیصلہ آنے کے بعد کانگریس لیڈر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ نے ایودھیا ایشو پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کی ہمیں عزت کرنی چاہیے اور ہم سب کو آپسی خیر سگالی برقرار رکھنا ہے۔ یہ وقت ہم سبھی ہندوستانیوں کے بیچ بھائی چارہ، یقین اور محبت کو فروغ دینے کا ہے۔‘‘
सुप्रीम कोर्ट ने अयोध्या मुद्दे पर अपना फैसला सुना दिया है। कोर्ट के इस फैसले का सम्मान करते हुए हम सब को आपसी सद्भाव बनाए रखना है। ये वक्त हम सभी भारतीयों के बीच बन्धुत्व,विश्वास और प्रेम का है।
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) November 9, 2019
اسدالدین اویسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوس کا کیا اظہار
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ملک ہندو راشٹر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ایکڑ زمین جو دینے کی بات کہی گئی ہے، اسے لینے سے انکار کر دیا جانا چاہیے کیونکہ پانچ ایکڑ زمین خریدنے کی قوت وہ رکھتے ہیں۔
تاریخی فیصلہ کے بعد جلد ہوگی رام مندر کی تعمیر: بابا رام دیو
یوگ گرو بابا رام دیو نے ایودھیا اراضی تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ اب ایک عظیم الشان رام مندر کی تعمیر ہوگی۔ بابا رام دیو نے مسلمانوں کو متبادل زمین دینے کے فیصلہ کا بھی استقبال کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلم بھائیوں کو چاہیے کہ رام مندر کی تعمیر میں تعاون کریں اور ہندو بھائی بھی مسجد کی تعمیر میں مسلمانوں کی ہر طرح سے مدد کریں۔
Baba Ramdev: This is a historic verdict. A grand Ram temple will be built. Decision to allot alternate land to Muslim side is welcome, I believe Hindu brothers should help in the construction of the Masjid as well. #Ayodhyajudgement pic.twitter.com/wcijPEkQ2Q
— ANI (@ANI) November 9, 2019
ہماری 67 ایکڑ زمین لینے کے بعد 5 ایکڑ دے رہے ہیں، یہ کہاں کا انصاف ہے: کمال فاروقی
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس کے بدلے ہمیں 100 ایکڑ زمین بھی دے تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہماری 67 ایکڑ زمین پہلے سے ہی لی ہوئی ہے تو ہم کو عطیہ میں کیا دے رہے ہیں وہ؟ ہماری 67 ایکڑ زمین لینے کے بعد 5 ایکڑ دے رہے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟‘‘
Kamaal Faruqi,All India Muslim Personal Law Board:Iske badle hume 100 acre zameen bhi de to koi fayda nahi hai.Hamari 67 acre zameen already acquire ki huyi hai to humko daan mein kya de rahe hain vo?Humari 67 acre zameen lene ke baad 5 acre de rahe hain. Ye kahan ka insaaf hai? pic.twitter.com/Pdgyhmhv7Z
— ANI (@ANI) November 9, 2019
سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ثابت ہوگا: امت شاہ
مرکزی وزیر برائے داخلہ امت شاہ نے سپریم کورٹ کے ذریعہ ایودھیا معاملہ پر فیصلہ سنائے جانے کے بعد اپنا رد عمل ٹوئٹر کے ذریعہ ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’مجھے پورا یقین ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ سنایا گیا تاریخی فیصلہ اپنے آپ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ یہ فیصلہ ہندوستان کے اتحاد، یکجہتی اور عظیم الشان ثقافت کو مزید طاقت عطا کرے گا۔‘‘
मुझे पूर्ण विश्वास है कि सर्वोच्च न्यायालय द्वारा दिया गया यह ऐतिहासिक निर्णय अपने आप में एक मील का पत्थर साबित होगा। यह निर्णय भारत की एकता, अखंडता और महान संस्कृति को और बल प्रदान करेगा।
— Amit Shah (@AmitShah) November 9, 2019
میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں: اقبال انصاری
ایودھیا تنازعہ پر فیصلہ آنے کے بعد مسلم پیروکار اقبال انصاری نے اپنا پہلا رد عمل میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے آخر کار اس معاملے پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ میں عدالت کے اس فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔‘‘
Iqbal Ansari, one of the litigants in Ayodhya case: I am happy that Supreme Court has finally delivered a verdict, I respect the judgement of the court. #AyodhyaJudgment pic.twitter.com/xNlCsguI2b
— ANI (@ANI) November 9, 2019
سپریم کورٹ کے فیصلہ نے ملک کو اتحاد و یکجہتی کا پیغام دیا: ہندو مہاسبھا وکیل
ہندو مہاسبھا کے وکیل ورون کمار سنہا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا ایودھیا اراضی سے متعلق فیصلہ تاریخی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس فیصلہ کے ساتھ سپریم کورٹ نے ملک کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا ہے۔
Varun Kumar Sinha, Lawyer of Hindu Mahasabha: It is a historic judgement. With this judgement, the Supreme Court has given the message of unity in diversity. pic.twitter.com/pJW3jJDmx7
— ANI (@ANI) November 9, 2019
ہم سب کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا چاہیے… ادھیر رنجن چودھری
لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا، ’’ہم امن بنائے رکھنے پر یقین رکھتے ہیں، میں امن کا پجاری ہوں، ہم سب کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا چاہیے۔
Adhir Ranjan Choudhary,Leader of Congress in Lok Sabha: Hum shaanti ke paksh mein shuru se hain, main barabar shanti ka pujari hoon. We all should abide by the verdict of the Supreme Court. #AyodhyaJudgment pic.twitter.com/oetB5LVw5V
— ANI (@ANI) November 9, 2019
چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کی امن کا ماحول قائم رکھنے کی اپیل
چیف جسٹس رنجن گگوئی نے امن کا ماحول قائم کرنے کی لوگوں سے اپیل کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی مشتعل نہ ہو اور کسی بھی طرح کا ہنگامہ نہ کرے۔
مندر، مسجد، گرودوارے، گرجاگھر سب انسانیت کی راہ بتانے کے لیے ہیں: راج ببر
کانگریس لیڈر راج ببر نے ایودھیا پر فیصلہ آنے سے قبل ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں عوام سے ملک کی اتحاد و سالمیت کو قائم رکھنے کی گزارش کی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’مندر، مسجد، گرودوارے، گرجا گھر – سب انسانیت کی راہ بتانے کے لیے ہیں۔ عدالتیں اسی انسانیت میں ہمارے یقین اور حوصلے کو قائم رکھتی ہیں۔ آئیے سب کو محفوظ رکھنے اور ملک کے اتحاد کو قائم رکھنے کے جذبے کے ساتھ فیصلے کا استقبال کریں۔‘‘
मंदिर, मस्जिद, गुरुद्वारे, गिरिजाघर – सब इंसानियत की राह बताने के लिए हैं। अदालतें उसी इंसानियत में हमारे यक़ीन और हौसले को क़ायम रखती हैं। आईए सबको महफ़ूज़ रखने और देश की एकता को क़ायम रखने के जज़्बे के साथ फ़ैसले का स्वागत करें।
— Raj Babbar (@RajBabbarMP) November 9, 2019
آج جو فیصلہ آئے گا سا سے پورا تنازعہ ختم ہو جائے گا: نرموہی اکھاڑا کے وکیل
ایودھیا اراضی تنازعہ پر فیصلہ سے پہلے نرموہی اکھاڑا کے وکیل ترون جیت ورما نے کہا کہ 491 سال بعد اس طرح کا فیصلہ آ رہا ہے جو ہندوستان کو جوڑنے کا کام کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ آج جو بھی فیصلہ آئے گا اس سے پورا تنازعہ ختم ہو جائے گا۔
یہ مہاتما گاندھی کا ملک ہے، امن اور عدم تشدد کے پیغام پر قائم رہنا ہماری ذمہ داری: پرینکا گاندھی
ایودھیا اراضی تنازعہ پر فیصلہ آنے سے پہلے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے لوگوں سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ کر کے کہا ہے کہ ’’جیسا کہ آپ سب کو پتہ ہے، ایودھیا معاملے پر آج سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے والا ہے۔ اس مشکل وقت میں عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو، ملک کے اتحاد، سماجی خیر سگالی اور آپسی محبت کی ہزاروں سال پرانی روایت کو بنائے رکھنے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ یہ مہاتما گاندھی کا ملک ہے۔ امن و عدم تشدد کے پیغام پر قائم رہنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘
ये महात्मा गांधी का देश है। अमन और अहिंसा के संदेश पर क़ायम रहना हमारा कर्तव्य है।
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) November 9, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
