ناندیڑ: 12مارچ( ورق تازہ نیوز) پرکاش امبیڈکر کی قیادت میں قائم بھاریپ بہوجن ونچت اگھاڑی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لوک سبھا چناو¿ میں مہاراشٹر کی تمام 48 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کررہی ہے۔اگھاڑ ی نے اپنے 22امیدواروں کی پہلی فہرست جاری بھی کر دی ہے ۔
سیاسی حلقوں اور انتخابی تجزیہ نگاروں میں یہ بحث جاری ہے کہ ونچت اگھاڑی کے امیدواروں سے کانگریس ۔راشٹروادی کانگریس کے امیدواروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ ونچت اگھاڑی کے امیدوار کانگریس۔ راشٹروادی اتحاد کے امیدواروں کے ووٹوں کو بڑے پیمانے پر تقسیم کریں گے ۔یاد رہے کہ کانگریس کا روایتی ووٹ دلت اور مسلم ہے اور یہی ووٹ بینک کوسیکولر بینک کہا جاتا ہے ۔مسلمانوں کے ووٹوں کے اسلئے تقسیم کا امکان ہے کہ ونچت اگھاڑی میں مجلس اتحاد المسلمین شامل ہے۔
گزشتہ ایک ماہ سے ونچت اگھاڑی کے جلسہ عام ہورہے ہیں جن میں دلت اور مسلم سماج کے افراد بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔ ان جلسوں کوپرکاش امبیڈکر اور ایم آئی ایم کے قومی قائد جناب اسدالدین اویسی‘ ریٹائرڈ جسٹس ممبئی ہائیکورٹ کولسے پاٹل مخاطب کر رہے ہیںپرکاش امبیڈکر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کانگریس سے اتحاد کے لئے رابطہ قائم کیا تھا لیکن انتخابی اتحاد اس لئے نہیں ہوسکا کانگریس اور اسکی اتحادی جماعت راشٹروادی کانگریس نے اگھاڑی کاسیٹوںکامطالبہ منظور نہیں کیا ہے ۔ جبکہ ونچت اگھاڑی اور ایم آئی ایم چاہتے ہیں کہ بی جے پی کو شکست ہو۔ اور یہ اس وقت ممکن ہو سکے گا جب سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو روکا جاسکے۔ معتبر ذرائع کے بموجب ونچت اگھاڑی نے دونوں جماعتوں سے 22 سیٹیں مانگی تھیں اور اسے صرف چار سیٹوں کو دینے کی پیشکش کی گئی تھی جسے اگھاڑی کے قائدین نے مسترد کردیا تھا ۔موجودہ لوک سبھا میں کانگریس پارٹی کے مہاراشٹر سے صرف 2 رکن پارلیمان ایک ناندیڑ سے اشوک راو¿ چوہان اور دوسرے ہنگولی سے راجیوساتو ہیں۔
مہاراشٹر میں کانگریس کو دھول چاٹنی پڑی تھی۔ مہاراشٹر میں اپریل میں چار مرحلوں میں رائے دی ہورہی ہے پہلا مرحلہ 11 اپریل کو ہے انتخابی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ ا بھی وقت گیا نہیں ہے کہ کانگریس ۔راشٹروادی کانگریس اپنے فیصلے پراز سر نو غور کرے اور ونچت اگھاڑی سے اتحاد کےلئے دست دوستی آگے بڑھائے۔