پونے:6ستمبر(ورق تازہ نیوز)جمعہ 6ستمبر کو اورنگ آباد میں ایم آئی ایم کے پردیش صدر اور رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیلکی جانب سے مہاراشٹر اسمبلی الیکشن میں ونچت بہوجن اگھاڑی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی ونچت اگھاڑی کاردعمل سامنے آیا ہے ۔ ونچت اگھاڑی کے میڈیاکوجاری کردہ مراسلے کے بموجب ایم آئی ایم کے قومی صدر بیرسٹراسدالدین اویسی کی جانب سے اگھاڑی کوایسا کوئی مکتو نہیں موصول ہو ا ہے کہ جس میں اگھاڑی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کی بات کہی گئی ہو اس لئے ونچت اگھاڑی اب بھی یہی سمجھتی ہے کہ اُن کے ساتھ اتحاد میں ایم آئی ایم شامل ہے۔ ونچت بہوجن اگھاڑی کی ورکنگ کمیٹی کے ممبررتن بنسوڑے نے مکتوب میںبتایا ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے قومی صدر اسدالدین اویسی نے ونچت اگھاڑی کو 17 سیٹوں کی فہرست روانہ کی تھی ۔ ان سیٹوں کی تقسیم پرابتدائی غوروخوص دونوں پارٹیوں کے قائدین کے درمیان جاری ہے ۔ حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔ جبکہ ایم پی امتیاز جلیل نے پریس کوجاری کردہ اپنے مکتوب (مورخہ 6ستمبر2019) میں واضح الفاظ میں تحریر کیا ہے کہ مہاراشٹراسمبلی چناومیںسیٹوں کی تقسیم پر ونچت اگھاڑی ‘ ایم آئی ایم کے ساتھ معاندانہ اوارو ر ہتک آمیز رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ ریاست کی 288 سیٹوں میں سے صرف 8 سیٹیں ‘ایم آئی ایم کی گود میںڈالی جارہی ہے ۔اسلئے ونچت اگھاڑی سے سیاسی وانتخابی اتحادختم کردیاگیاا ہے ااور ن کی پارٹی بڑی تعداد میں ریاست میں امیدوار کھڑے کررہی ہے ۔اور کسی بھی پارٹی سے اتحاد نہ کرتے ہوئے اپنی طاقت پر الیکشن لڑے گی ۔ امتیاز جلیل کے اس فیصلے سے ونچت اگھاڑی کے قائدین ہل گئے ہیں ۔بوکھلاہٹ کاشکار ہوکر مندرجہ بالا مکتوب جاری کیا ہے ۔
